ایران کا صوبہ کرمانشاہ زلزلے سے لرز اٹھا، 5.5 شدت کے جھٹکوں سے شہریوں میں خوف و ہراس، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے

ایران کا صوبہ کرمانشاہ زلزلے سے لرز اٹھا، 5.5 شدت کے جھٹکوں سے شہریوں میں خوف و ہراس، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے

ایران کے مغربی صوبے کرمانشاہ میں آج صبح 5.5 شدت کا شدید زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

یورپی زلزلہ پیما مرکز اور تہران یونیورسٹی کے ایرانی سیسمولوجیکل سینٹر کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 13 منٹ پر آیا۔

 زلزلے کی زیرِ زمین گہرائی انتہائی کم یعنی صرف 8 کلو میٹر (5 میل) تھی، جس کی وجہ سے جھٹکے انتہائی شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:یونان کے جنوبی جزیرے میں 6.1 شدت کا زلزلہ ، سونامی الرٹ جاری

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق زلزلے کا مرکز کوزران کے علاقے کے قریب تھا، جو کوزران سے 17 کلو میٹر اور صوبائی دارالحکومت کرمانشاہ سے تقریباً 65 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔

صبح سویرے آنے والے اس زلزلے نے سوتے ہوئے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جس کے بعد دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہو گئے اور لوگ کھلے میدانوں کی طرف بھاگے۔

ریسکیو ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

زلزلے کے اہم اعداد و شمار

ایران کا شمار دنیا کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو ارضیاتی طور پر شدید ترین زلزلوں کی زد میں رہتے ہیں کیونکہ یہ علاقہ متعدد بڑی ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر واقع ہے۔ صوبہ کرمانشاہ ماضی میں بھی کئی تباہ کن زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔

تاریخی پس منظر

سال 2017 میں اسی صوبے کرمانشاہ میں 7.3 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں 600 سے زیادہ افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے، جبکہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہلکے جھٹکے بھی عوام میں پرانے خوف کو تازہ کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے، شدت 5.9 ریکارڈ

کرمانشاہ میں آنے والے اس زلزلے کی شدت (5.5) درمیانے درجے کی ہے، لیکن اس کی گہرائی کا صرف 8 کلو میٹر ہونا انتہائی تشویشناک امر ہے۔

ارضیاتی سائنس کے مطابق زلزلہ جتنا کم گہرا ہوگا، زمین کی سطح پر اس کی تباہی کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔

خوش قسمتی سے زلزلے کا مرکز دیہی اور کم آبادی والے علاقے ‘کوزران’ کے قریب تھا، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فوری نقصان نہیں ہوا، بصورتِ دیگر یہ شدت کسی گنجان آباد شہر میں بھاری تباہی پھیلا سکتی تھی۔

یہ زلزلہ ایرانی حکام کے لیے ایک وارننگ ہے کہ وہ صوبے میں تعمیراتی معیار اور زلزلہ پروف انفراسٹرکچر کی نگرانی کو مزید سخت کریں، کیونکہ اس فالٹ لائن پر مستقبل میں کسی بڑے جھٹکے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

Related Articles