قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران افغان شہریوں کے لیے غیر قانونی طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے والے خطرناک نیٹ ورک کے 4 اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں نادرا کے 2 سینئر افسران بھی شامل ہیں۔
ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی اس بڑی کارروائی میں گرفتار کیے گئے ملزمان میں نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر انعام الحق، ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد، چوکیدار جنید احمد اور ایک پرائیویٹ ایجنٹ محمد عمر شاہ شامل ہیں۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ملزمان مبینہ طور پر غیر ملکیوں بالخصوص افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات کے اجرا، نادرا کے سرکاری ریکارڈ میں غیر قانونی رد و بدل اور دیگر سنگین غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کاری کر رہے تھے۔
تفتیش کے دوران ملنے والے ابتدائی شواہد سے اس گٹھ جوڑ اور نیٹ ورک کے براہِ راست دہشتگرد عناصر کے ساتھ روابط کی نشاندہی بھی ہوئی ہے، جس کے بعد معاملہ کی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مزید گہرائی سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا کا اہم سرکاری ریکارڈ، سسٹمز اور دیگر اہم شواہد قبضے میں لے لیے گئے ہیں اور معاملے کی تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات اور گرفتاریوں کا قوی امکان ہے اور اس نیٹ ورک میں شامل تمام مرکزی کرداروں اور سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی، دہشتگردی کی معاونت اور منظم جرائم کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستان کو ماضی میں بھی غیر ملکی شہریوں بالخصوص افغان مہاجرین کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کے اجرا کے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
نادرا میں کالی بھیڑوں کی موجودگی اور کچھ بدعنوان ملازمین پرائیویٹ ایجنٹوں کے ساتھ مل کر بھاری رقم کے عوض غیر ملکیوں کو پاکستانی شہری ظاہر کر کے شناختی کارڈز جاری کرتے رہے ہیں۔
اس قسم کی جعل سازی سے نہ صرف ملک کے وسائل پر دباؤ پڑتا ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک زہرِ قاتل ثابت ہوا ہے، کیونکہ ماضی میں کئی دہشتگردوں اور کالعدم تنظیموں کے کارندوں کے پاس سے نادرا کے اصلی لیکن غیر قانونی شناختی کارڈز برآمد ہو چکے ہیں۔
حکومت نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء اور شناختی نظام کو شفاف بنانے کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے ایک وسیع کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔
نادرا کے اعلیٰ حکام کی گرفتاری اور دہشتگردوں سے ان کے روابط کی نشاندہی پاکستان کے سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے پر درج ذیل گہرے اثرات کی نشان دہی کرتی ہے۔
قومی سلامتی پر براہِ راست حملہ
نادرا جیسے حساس اور خود مختار ادارے کے اندر سے اسسٹنٹ اور ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے درجے کے افسران کا اس جرم میں ملوث ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ کرپشن اور لالچ نے ملک کے سیکیورٹی فلٹرز کو کتنا کمزور کر دیا تھا۔
دہشتگردوں کا جعلی پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنا ان کے لیے ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت اور کارروائیوں کو آسان بناتا ہے۔
انٹیلی جنس اداروں کا بروقت ایکشن
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف آئی اے کا یہ مشترکہ آپریشن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اب اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی مانیٹرنگ پر توجہ دے رہی ہیں، جو کہ آسٹین کے سانپوں کو ختم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
نادرا کے نظام کی ہنگامی اوور ہالنگ کی ضرورت
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ نادرا میں صرف پاسورڈ یا بائیو میٹرک تصدیق کافی نہیں ہے، بلکہ اندرونی چیک اینڈ بیلنس اور ڈیجیٹل آڈٹ کے نظام کو اور زیادہ سخت بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی افسر یکطرفہ طور پر ریکارڈ میں ہیر پھیری یا کسی غیر ملکی کو شناختی دستاویز جاری نہ کر سکے۔