گرفتار خارجی سہولت کار ظفر یاب کے انکشافات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ دہشتگرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے غیر قانونی مدارس، خود ساختہ مذہبی شخصیات اور مذہب کی آڑ کو استعمال کرتے رہے ہیں۔
ظفر یاب کے اعترافات کے مطابق وہ جامع نظام العلوم بنوں اور دیگر دینی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر کے لیے کام کرتا رہا، جہاں دہشتگرد سرغنہ جہاد کی اصطلاع کا غلط استعمال کرتے ہوئے بھتہ خوری، دھمکیوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے من پسند فتوؤں کا سہارا لیتے تھے۔
یہ انکشافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسے غیر قانونی مدارس جہاں ریاستی نگرانی، مالی شفافیت اور تعلیمی معیار کا مؤثر نظام موجود نہیں، شدت پسند عناصر کے لیے سہولت کاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں 2019ء میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاق المدارس العربیہ سمیت اتحاد تنظیماتِ مدارس اور وفاقی حکومت کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن، مالی شفافیت، نصاب کی بہتری اور ریاستی نگرانی کے لیے معاہدہ طے پایا، جس کا مقصد تمام مدارس کو قانونی دائرے میں لانا تھا۔
معاہدے کے تحت تمام مدارس کی وفاقی وزارتِ تعلیم میں رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹس کا قیام، غیر ملکی طلبہ کا باقاعدہ ریکارڈ اور مدارس کے کوائف کی نگرانی وزارتِ تعلیم کے سپرد کی گئی، جبکہ 2024ء سے 2026ء تک اسی معاہدے کی بنیاد پر حکومت اور دینی تنظیموں کے درمیان مشاورت اور عمل درآمد کا سلسلہ جاری رہا۔
بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے غیر قانونی مدارس کی رجسٹریشن سے اجتناب اور مخالفت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ ان کے مالی وسائل کہاں سے آتے ہیں، یہاں کون تعلیم حاصل کر رہا ہے، کون سا نصاب پڑھایا جا رہا ہے اور ان کی سرگرمیوں کا دائرہ کیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجئس ایجوکیشن (DGRE)کے مطابق مئی 2026ء تک وفاقی سطح پر رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 20052 ہے، جن میں پنجاب کے 11,574 مدارس،سندھ میں 2501،بلوچستان میں 619،خیبرپختونخوا میں 4532،آزادجموں و کشمیر میں 513،اسلام آباد میں 217اور گلگت بلتستان میں 96مدارس شامل ہیں۔
ریاستی سطح پر مدارس کی رجسٹریشن اور نگرانی کا عمل اسی لیے ضروری ہے تاکہ دینی تعلیم کے ادارے شفاف، منظم اور قانون کے مطابق کام کریں، جبکہ ایسے عناصر کا راستہ روکا جا سکے جو مذہب کو استعمال کرکے دہشتگردی، شدت پسندی اور غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔
ڈی جی آر ای کے تحت مدارس کی رجسٹریشن، مالیاتی ریکارڈ اور انتظامی نگرانی کا نظام اسی مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا ہے تاکہ تمام دینی ادارے قومی سلامتی اور تعلیمی معیار کے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کر سکیں۔