20 سال پرانی گاڑیوں کے مالکان کے لیے بڑی خبر، نیا منصوبہ تیار

20 سال پرانی گاڑیوں کے مالکان کے لیے بڑی خبر، نیا منصوبہ تیار

پنجاب حکومت نے 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے انہیں مرحلہ وار ختم کرنے کی پالیسی تیار کرلی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کی پہلی نیو انرجی وہیکل پالیسی کے تحت پرانی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لانے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جسے منظوری کے لیے جلد صوبائی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

مسودے کے مطابق 20 سال پرانی گاڑیوں پر فوری پابندی عائد نہیں کی جائے گی بلکہ اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا تاکہ گاڑی مالکان کو متبادل کا وقت مل سکے۔

پالیسی کے تحت گاڑیوں کی عمر جانچنے کے لیے ایک ڈیجیٹل ویری فکیشن سسٹم قائم کیا جائے گا، جس میں گاڑی کی عمر کا تعین اس کی رجسٹریشن کی تاریخ سے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :گاڑی مالکان خبردار،یکم جنوری سے بڑی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا

حکومت کا منصوبہ ہے کہ 2027 تک یہ ڈیجیٹل نظام پورے پنجاب میں نافذ کر دیا جائے، جبکہ 2028 سے 2030 کے دوران لاہور، فیصل آباد سمیت منتخب شہروں میں 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کے لیے لو ایمیشن زونز قائم کرکے پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

پالیسی کے مطابق 2031 سے 2035 کے دوران 20 سال سے زائد پرانی کمرشل گاڑیوں کو مرحلہ وار سڑکوں سے ہٹانے کا منصوبہ ہے، جبکہ 2033 کے بعد نجی گاڑیوں کو بھی اس پالیسی کے دائرہ کار میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

پنجاب حکومت پرانی گاڑیوں کے مالکان کو نئی ماحول دوست گاڑیاں خریدنے کی ترغیب دینے کے لیے مراعات دینے پر بھی غور کر رہی ہے، جن میں گاڑی اسکریپ کرنے پر مالی معاونت اور مختلف رعایتیں شامل ہوں گی۔

مسودے میں نئی انرجی وہیکلز کے فروغ کے لیے ابتدائی تین سال کے دوران رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس اور روٹ پرمٹ فیس میں 95 فیصد تک کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب بھر میں 3 ہزار سے زائد چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے اور 2030 تک تمام نئی سرکاری گاڑیوں کو الیکٹرک یا کم اخراج والی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق اس پالیسی کا مقصد فضائی آلودگی میں کمی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا اور پنجاب میں جدید ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانا ہے۔

editor

Related Articles