وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے نمایاں صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں برآمدات میں اضافے، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری شعبے کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی،وزیراعظم نے کاروباری وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کا بنیادی مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے لیے کاروباری برادری سے مشاورت کرنا ہے،انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران کاروباری شخصیات نے متعدد مفید تجاویز پیش کیں، جن میں سے کئی سفارشات کو حکومت نے بجٹ کا حصہ بھی بنایا۔
سپر ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کا جائزہ
ملاقات میں برآمدکنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ کی مدت میں توسیع کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جس پر وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
کاروباری سرگرمیوں کے لیے حکومتی اقدامات
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ توانائی کے اخراجات صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو مؤثر بنانے کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ نئے قائم کیے گئے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو تجارت کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور فعال ادارہ بنایا جائے گا،انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ بورڈ کی کارکردگی اور دائرہ کار بہتر بنانے کے لیے اپنی تجاویز حکومت کے ساتھ شیئر کریں۔
سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو سہولت
وزیراعظم کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری شعبے کو ایک پلیٹ فارم پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ ون ونڈو آپریشن کے تحت سرمایہ کاری سے متعلق مختلف معاملات کو آسان اور تیز بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
غیر ضروری قواعد میں کمی پر کام
شہباز شریف نے کہا کہ کاروباری اداروں پر غیر ضروری ریگولیٹری بوجھ کم کرنے کے لیے ریگولیٹری گلوٹین کے منصوبے پر کام جاری ہے،اس اقدام کا مقصد قواعد و ضوابط کو آسان بنانا، کاروبار کی کمپلائنس لاگت کم کرنا اور سرمایہ کاری و صنعتی سرگرمیوں میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن میں پیش رفت
وزیراعظم نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہم کام مکمل کیا جا چکا ہے،انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے گزشتہ مالی سال کے دوران انفورسمنٹ کے ذریعے 800 ارب روپے جمع کیے۔
معاشی استحکام میں بہتری
وزیراعظم نے کاروباری وفد کو بتایا کہ حکومتی معاشی ٹیم کی کوششوں کے نتیجے میں ملک کے مجموعی معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے،انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مائیکرو اکنامک سطح پر بھی مزید کام کیا جائے تاکہ معاشی بہتری کے فوائد عام لوگوں تک پہنچ سکیں۔
نوجوانوں کی مارکیٹ کے مطابق تربیت
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت صنعت اور مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کی فنی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ہنرمند افرادی قوت کی فراہمی سے صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
کاروباری مسائل کے حل کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو کاروباری برادری کے مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔
بندرگاہوں پر چارجز میں کمی
ملاقات کے دوران وفد کو تجارت اور صنعت کے فروغ کے لیے جاری حکومتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی،حکام نے بتایا کہ ملک کی بندرگاہوں پر پورٹ چارجز کم کیے گئے ہیں جبکہ بندرگاہوں کی آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کا منصوبہ
کاروباری وفد کو بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے دیگر علاقوں تک تجارتی سامان کی نقل و حمل بہتر بنانے کے لیے موٹر وے ایم 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔
کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا،ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ملک کے معاشی استحکام اور پاکستان پر کاروباری و سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔