پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 2 دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی

پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 2 دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی

پنجگور کے علاقے گوارگو، جیوئسر میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ متعدد دہشت گرد زخمی ہو گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بھی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 جولائی 2026 کو پنجگور کے علاقے گوارگو، جیوئسر میں مسلح دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق مصدقہ خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کا آغاز کیا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی میں جدید تکنیکی ذرائع اور انٹیلیجنس معلومات کی مدد سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا محاصرہ کیا گیا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیر استعمال ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بھی جاری رکھا گیا تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 32 دہشتگرد ہلاک

کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور دیگر سامان برآمد کیا گیا، جس میں 4 آئی ای ڈی فیوز، ایک آئی ای ڈی ریموٹ، 5 آر پی جی راؤنڈ، 4 آر پی جی فیوز، 20 میٹر ڈیٹونیٹر کورڈ، ایک ہینڈ گرنیڈ، ایک موبائل فون، ایک واکی ٹاکی اور 4 ہونڈا 125 موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق برآمد ہونے والے سامان کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔

Related Articles