“ہم گئے تو سب کو ساتھ لے کر جائیں گے”امیر مقام کے بیان نے ہلچل مچا دی

“ہم گئے تو سب کو ساتھ لے کر جائیں گے”امیر مقام کے بیان نے ہلچل مچا دی

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھانے کے بجائے پیپلز پارٹی کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ عوام نے اسے کیوں مسترد کیا۔

مظفرآباد میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور انتظامیہ پیپلز پارٹی کے زیرِ اثر ہے، اس لیے بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے عوامی فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی جو موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتی ہے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ خود اسی نظام کا حصہ ہے اور اہم آئینی عہدوں پر فائز ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سیاست اپنی جگہ لیکن ریاست جموں کشمیر کمزور نہیں ہونی چاہیے، امیر مقام

انہوں نے کہا کہ بار بار دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ہم گئے تو سب اکٹھے جائیں گے جس طرح لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلے، یہ کشمیری عوام اور جمہوریت کی فتح ہے ہمیں تنازعات کھڑے نہیں کرنے چاہئیں۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری یاسین کا رزلٹ ہمارے سامنے آیا تو پتہ چلا ان کے کسی جگہ 96 فیصد اور کسی جگہ 98 فیصد ووٹ پڑے پیپلز پارٹی انتخابی نتائج پر اعتراضات کے بجائے عوامی فیصلے کا احترام کرے اور اپنی شکست کی وجوہات کا جائزہ لے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دو برس کے دوران منظم انداز میں کام کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ کشمیری عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرپور میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اورمجھے یقین ہے کہ مظفرآباد ڈویژن کے عوام بھی اس سے بڑھ کر اعتماد کا مظاہرہ کریں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خطوط کا کوئی مستقبل نہیں : انجینئر امیر مقام

آزاد کشمیر میں پرامن انتخابات کے انعقاد پر پولیس، ضلعی انتظامیہ اور کشمیری عوام خراج تحسین کے مستحق ہیں مسلم لیگ (ن) کوبھی بعض حلقوں کے نتائج پر تحفظات ہیں مگر غیر ضروری تنازعات کے بجائے جمہوری عمل کو سراہنا چاہیے۔

editor

Related Articles