’بوہے باریاں‘ کی بھارت میں پھر دھوم، جیسمن سینڈلاس کا حدیقہ کیانی کو منفرد خراجِ تحسین

’بوہے باریاں‘ کی بھارت میں پھر دھوم، جیسمن سینڈلاس کا حدیقہ کیانی کو منفرد خراجِ تحسین

بھارت کی مقبول پنجابی گلوکارہ جیسمین سینڈلاس نے پاکستانی موسیقی کی ممتاز شخصیت حدیقہ کیانی کے لازوال اور مقبول ترین گانے “بوہے باریاں” کو اپنے منفرد انداز میں براہِ راست (لائیو) گا کر سامعین کے دل جیت لیے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں جیسمین کو ایک لائیو شو کے دوران اس مقبول پاکستانی کلاسک گانے کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جنوبی ایشیا کے اس انتہائی پسندیدہ گانے میں اپنی منفرد آواز اور اسٹیج پر پرجوش انداز کا جادو جگایا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)

سرحد پار موسیقی کی اس پرفارمنس  نے جلد ہی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب کھینج لی اور بہت سے لوگوں نے جیسمین کی تعریف کی کہ انہوں نے ایک پاکستانی فنکارہ کے کام کو سراہا اور اس گانے کو ایک نئے انداز میں پیش کیا جو خطے کی پاپ کلچر میں گہری جگہ رکھتا ہے۔

“بوہے باریاں” کو وسیع پیمانے پر 1990 کی دہائی کے اواخر کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے پاکستانی پاپ گانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے ،  یہ گانا اصل میں حدیقہ کیانی نے گایا تھا اور یہ 1998 میں ریلیز ہونے والی ان کی سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی  البم ‘روشنی’ کا حصہ تھا۔

 اس گانے کے بول حدیقہ کی والدہ خاور کیانی نے لکھے تھے، جس کی وجہ سے اس مشہور و معروف گانے کے ساتھ ایک گہرا ذاتی تعلق بھی جڑا ہوا ہے۔

اس پرفارمنس نے آن لائن دنیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے ، سوشل میڈیا صارفین نے “بوہے باریاں” کو ایک لازوال شاہکار قرار دیا ہے اور اس گانے کی پیشکش میں جیسمین کے منفرد اندازِ گلوکاری کو بے حد سراہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ہانیہ عامر کا شائے گل کا گانا کاپی کرنے کی سوشل میڈیا پر بحث، گلوکارہ نے وضاحت دیدی

سوشل میڈیا صارفین  نے اس ویڈیو کو موسیقی کی جانب سے سیاسی اور جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرنے کی ایک بہترین مثال کے طور پر بھی دیکھا، کیونکہ جیسمین کی اس پرفارمنس نے انڈین پنجابی موسیقی اور پاکستان کی شاندار پاپ موسیقی کی روایت کے درمیان ایک ثقافتی پل کا کردار ادا کیا ہے۔

 ایک بار پھر حدیقہ کیانی کی موسیقی کی دائمی مقبولیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی ایک ملک میں تخلیق ہونے والے گانے اپنی ریلیز کے کئی دہائیوں بعد بھی پورے خطے کے سامعین کے دلوں میں اپنا مقام برقرار رکھ سکتا ہے۔

editor

Related Articles