پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نثار کھوڑو اور ان کی بیٹی کے خلاف محکمہ خوراک سندھ میں اربوں روپے کی مالی بدعنوانی، گندم کی چوری اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے الزامات سندھ اسمبلی سمیت ملک بھر کے عوامی و سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر گردش کرنے لگے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نثار کھوڑو کے بطور صوبائی وزیرِ خوراک و زراعت دورِ اقتدار کے دوران محکمہ خوراک سندھ میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
اخباری رپورٹس اور اپوزیشن کی جانب سے عائد کردہ الزامات کے مطابق ان کے دورِ وزارت میں صوبے کے سرکاری گوداموں سے 10 ارب روپے مالیت کی گندم غائب یا چوری ہوئی۔
اس کے علاوہ باردانہ کی تقسیم میں بھی سنگین خرد برد کی گئی جس پر اینٹی کرپشن فورمز پر معاملات زیرِ بحث رہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے گندم گوداموں میں خورد برد کے ایک مخصوص ریفرنس میں 60 ملین (6 کروڑ) روپے کی مالی بدعنوانی کا کیس بھی دائر کر رکھا ہے۔
مشکوک بینک ٹرانزیکشنز اور نیب تحقیقات
نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی جانب سے نثار کھوڑو کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں مشکوک اور غیر واضح ٹرانزیکشنز کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کی ایسی مالی منتقلیاں پائی گئیں جو ان کی ظاہر کردہ معلوم آمدنی سے میل نہیں کھاتی تھیں۔
نیب کراچی نے ان مشکوک ٹرانزیکشنز پر انہیں کال اپ نوٹسز جاری کیے، جس کے بعد انہوں نے ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کی۔
اس کے علاوہ اینٹی کرپشن عدالت میں نثار کھوڑو کے خلاف ہزاروں ایکڑ سرکاری و زرعی اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضے کا کیس بھی زیرِ التوا ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو اربوں روپے بنتی ہے۔
ملتان کے شہریوں کی شدید تنقید اور عوامی غصہ
محکمہ خوراک میں نثار کھوڑو اور ان کی بیٹی ندا کھوڑو کے خلاف سامنے آنے والے کرپشن اسکینڈل پر پنجاب کے شہر ملتان میں شہریوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کی اس لوٹ کھسوٹ سے ملک کا عام شہری اور بے روزگار نوجوان سخت متاثر ہوئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ نثار کھوڑو اور ان کی بیٹی نے جتنی رقم کی کرپشن کی، اگر وہ عوامی فلاح پر خرچ ہوتی تو اس سے کئی بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے۔
گفتگو کے دوران ملتان کے شہریوں نے پیپلز پارٹی کو ‘ناسور’ قرار دیتے ہوئے اس کی پالیسیوں اور مبینہ بدعنوانی پر شدید تنقید کی ہے۔
سندھ اسمبلی میں احتجاج اور حلقے کی بدحالی
ستمبر 2026 میں سندھ اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران جہاں نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث جاری تھی، اپوزیشن ارکان نے نثار کھوڑو پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایوان کے اندر اور باہر شدید نعرے بازی اور احتساب کا مطالبہ کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ نثار کھوڑو کے اپنے حلقے لاڑکانہ کی ناگفتہ بہ حالت اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں مبینہ خرد برد کی ویڈیوز اور رپورٹس بھی سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہیں، جنہیں ان کے خاندان سے جوڑ کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
نثار کھوڑو پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور صوبائی سطح پر اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
تاہم مسلسل کرپشن کے الزامات، نیب تحقیقات اور عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی وجہ سے حالیہ عرصے میں انہیں صوبائی کابینہ یا حکومت میں کوئی نیا عہدہ نہیں دیا گیا، جس سے پارٹی کے اندر اور باہر ان کی سیاسی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نثار کھوڑو کے خلاف نیب کی 60 ملین روپے کے ریفرنس اور 10 ارب روپے کی گندم چوری کے الزامات پیپلز پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن چکے ہیں۔
پچھلی کئی دہائیوں سے پارٹی میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود نثار کھوڑو کو حالیہ کابینہ یا حکومت میں کوئی عہدہ نہ ملنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پارٹی قیادت مزید بدنامی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے۔
نیب کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشنز اور اراضی پر قبضے کی تحقیقات کے نتائج سندھ بالخصوص لاڑکانہ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
اگر ان مقدمات میں ٹھوس پیش رفت ہوتی ہے تو اپوزیشن کو سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھانے کا بھرپور موقع ملے گا۔