حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، پاکستان کا واضح اعلان

حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، پاکستان کا واضح اعلان

پاکستان نے مکہ مکرمہ کی سمت حوثی باغیوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ 15 ستمبر 2026 کو پاکستانی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی جارحانہ پیش قدمی پر بھارتی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج درج کرایا ہے۔

دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک گھناؤنا اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے، جس سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان نے زور دے کر کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کی خودمختاری، امن اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے برادر ملک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب پر حملوں کی مذمت، او آئی سی کا سعودی عرب سے مکمل اظہار یکجہتی

انہوں نے سعودی عرب کے شہری علاقوں اور اہم تنصیبات پر حوثی شدت پسندوں کے مسلسل حملوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا انتہائی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم خطے میں پائیدار امن اور تنازعات کے حل کے لیے پاکستان ہمیشہ سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کا حامی رہا ہے۔

پاکستانی بحری حدود میں بھارتی جارحیت اور سفارتی احتجاج

ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے ایک اور اہم واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارتی بحری جہاز نے 15 ستمبر 2026 کو پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں پاک بحریہ کے جہاز کے قریب انتہائی جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی۔ بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ بحری معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تشویشناک واقعے پر پاکستان نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو گزشتہ رات دفترِ خارجہ طلب کیا اور ان کے سامنے شدید احتجاج درج کرایا۔

ترجمان نے مزید آگاہ کیا کہ آج نئی دہلی میں بھی پاکستانی ناظم الامور بھارتی وزارتِ خارجہ میں اس قانون شکنی پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی حدود اور اہم شہروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ کچھ عرصے سے جاری ہے، جس پر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح اور غیر متزلزل رہا ہے کہ سعودی عرب کے تحفظ اور حرمین شریفین کی حرمت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب، سمندری حدود میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف دوطرفہ بحری معاہدے موجود ہیں جن کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، غیر مشروط حمایت کا اعلان

تاہم بھارتی بحری جہاز کی جانب سے 15 ستمبر کو کی جانے والی حالیہ پیش قدمی کو خطے کی بحری سلامتی کے لیے ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں واقعات مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کو نمایاں کرتے ہیں۔ حوثی حملوں کے خلاف پاکستان کا فوری اور سخت ردِعمل اسلامی دنیا میں سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ اور تزویراتی تعلقات کا عکاس ہے۔

جبکہ دوسری جانب، پاکستانی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی اشتعال انگیزی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت خطے میں بلاوجہ تناؤ پیدا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

ایسے ماحول میں پاکستان کا سفارتی چینلز کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرانا اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دینا اس کی ذمے دارانہ اور متوازن خارجہ پالیسی کو ثابت کرتا ہے۔

Related Articles