ایشین چیمپیئنز ٹرافی بھارت میں ہی ہوگی’، ہاکی انڈیا کا پاکستان کی نیوٹرل وینیو کی درخواست پر دو ٹوک جواب

ایشین چیمپیئنز ٹرافی بھارت میں ہی ہوگی’، ہاکی انڈیا کا پاکستان کی نیوٹرل وینیو کی درخواست پر دو ٹوک جواب

ہاکی انڈیا نے ایشین چیمپیئنز ٹرافی کے میچز نیوٹرل مقام پر کرانے کی پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ٹورنامنٹ بھارت میں ہی کھیلا جائے گا، بصورت دیگر متبادل ٹیم کو مدعو کر لیا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے روابط پر ایک بار پھر کشیدگی کے بادل چھانے لگے ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایشین ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ طور پر یہ مطالبہ کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کے میچز کسی نیوٹرل مقام پر منتقل کیے جائیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ متبادل تجویز بھی دی گئی تھی کہ مکمل چیمپیئنز ٹرافی ہی بھارت کے بجائے کسی تیسرے غیر جانبدار ملک میں منعقد کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:ایشین چیمپیئنز ٹرافی بھارت میں ہی ہوگی، ہاکی انڈیا کا پاکستان کی نیوٹرل وینیو کی درخواست پر دو ٹوک جواب

تاہم اس معاملے پر بھارتی ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری بھولا ناتھ سنگھ کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈین ہاکی فیڈریشن نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی ہر صورت میں بھارت کی سرزمین پر ہی منعقد ہوگی اور اس کے مقام میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

متبادل ٹیم بلانے کی دھمکی

انڈین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے میچز شیڈول کے مطابق بھارت میں ہی کھیلنا ہوں گے۔

بھارتی حکام نے دھمکی آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم بھارت آنے سے انکار کرتی ہے تو ایونٹ کو روکا نہیں جائے گا، بلکہ پہلے سے اعلان کردہ متبادل ٹیم کو ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے مدعو کر لیا جائے گا۔

شیڈول اور متضاد بھارتی بیانات

واضح رہے کہ ایشین چیمپیئنز ٹرافی کا شیڈول پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔ یہ اہم ایونٹ 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارتی پنجاب کے شہروں جالندھر اور موہالی میں کھیلا جائے گا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارتی حکام کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ محض دو روز قبل ہی بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے شیڈول کے اعلان کے موقع پر پراعتماد انداز میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم اس ایونٹ میں شرکت کے لیے ضرور آئے گی، لیکن اب ہاکی انڈیا کی جانب سے سخت لب و لہجہ استعمال کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس تمام تر صورتحال اور پاکستان کی باضابطہ درخواست پر ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف یا فیصلہ سامنے نہیں آ سکا ہے جس نے معاملے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کا اثر ہمیشہ سے کھیلوں پر حاوی رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز مکمل طور پر معطل ہیں اور ان کا آمنا سامنا صرف بین الاقوامی ایونٹس میں ہی ہوتا ہے۔

کرکٹ کی طرح ہاکی میں بھی سیکیورٹی خدشات اور ویزا مسائل کے باعث ٹیموں کا ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کرنا ہمیشہ ایک پیچیدہ مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:روایتی حریف پاکستان اور بھارت انڈر 19 ایشیاء کپ کے فائنل میں آمنے سامنے

پاکستان کی جانب سے نیوٹرل وینیو کا حالیہ مطالبہ بھی کھلاڑیوں کے تحفظ اور اسی کشیدہ ماحول کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

اس تمام صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہاکی انڈیا کا حالیہ بیان واضح طور پر ‘پریشر ٹیکٹکس’ یعنی دباؤ کی ایک حکمت عملی ہے۔

بھارت اپنے ہوم گراؤنڈ اور مالیاتی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایشین ہاکی فیڈریشن پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی غیر موجودگی سے ٹورنامنٹ کی عالمی کشش اور مالی فوائد کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ ‘پاک بھارت ٹاکرا’ ہی شائقین اور اسپانسرز کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز ہوتا ہے۔

ایشین ہاکی فیڈریشن کی مسلسل خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ وہ پردے کے پیچھے دونوں بورڈز کے درمیان معاملات طے کرانے کی درمیانی راہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم اگر بھارت اپنے مؤقف پر ڈٹا رہتا ہے اور پاکستان سیکیورٹی وجوہات پر انکار کرتا ہے، تو یہ معاملہ دونوں ممالک کی حکومتی سطح تک جائے گا، جس کا حتمی فیصلہ سفارتی منظوری سے ہی مشروط ہوگا۔

Related Articles