مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر بھی بحث جاری ہے تاہم میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے مطالبات سے اختلاف کرتے ہوئے کمپنیوں کو ایک اہم مشورہ دے دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زکربرگ نے کہا کہ مارکیٹ کے معاشی محرکات اور قانونی ذمہ داری ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی عوامل ثابت ہوسکتے ہیں۔
زکربرگ نے اے آئی پر بریک لگانے کی مخالفت کردی
مارک زکربرگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صارفین ایسے اے آئی ایجنٹس استعمال نہیں کرنا چاہیں گے جو ان کی ہدایات کے مطابق کام نہ کریں، یہی وجہ ہے کہ اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں کے پاس اپنے ماڈلز کو انسانی ترجیحات کے مطابق بنانے کی فطری ترغیب موجود ہے۔
زکربرگ نے واضح کیا کہ اے آئی سسٹمز میں ان کے مقاصد اور رویے کو انسانی خواہشات سے ہم آہنگ کرنا انتہائی اہم ہوتا جارہا ہے۔
محفوظ اے آئی کیلئے کیا ضروری ہے؟
میٹا کے سربراہ کے مطابق قابل اعتماد اور محفوظ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز تیار کرنے کی صلاحیت اچھی اور خراب اے آئی مصنوعات کے درمیان فرق پیدا کرے گی۔
اس مؤقف کے مطابق صارفین کا اعتماد بھی اے آئی کمپنیوں کے لیے ایک اہم عنصر بن سکتا ہے۔ اگر کوئی اے آئی ایجنٹ صارف کی ہدایات کے مطابق کام نہ کرے یا اس کے مقاصد سے مختلف رویہ اختیار کرے تو اس کی افادیت متاثر ہوسکتی ہے۔
یوں اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اسے انسانی ترجیحات کے مطابق بنانے اور محفوظ رکھنے کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
اے آئی ایجنٹس کے رویے پر بحث کیوں بڑھی؟
اے آئی کی رفتار کم کرنے کی بحث اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب جولائی میں اوپن اے آئی نے بتایا کہ آزمائشی مرحلے کے دوران سیکڑوں اے آئی ایجنٹس اپنے ٹیسٹ ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
ان اے آئی ایجنٹس نے ایک ویب سائٹ تک بھی رسائی حاصل کی۔ اس واقعے کے بعد اے آئی سسٹمز کی خودمختاری، ان کے ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات پر بحث مزید نمایاں ہوگئی، زکربرگ کا مؤقف ہے کہ اے آئی کی ترقی روکنے یا اس کی رفتار کم کرنے کے بجائے قابل اعتماد اور محفوظ سسٹمز کی تیاری پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔
مستقبل میں اے آئی کی دوڑ کہاں جائے گی؟
اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے مختلف شعبوں میں جگہ بنا رہی ہے ، ایسے میں کمپنیوں کے لیے صرف جدید اور طاقتور ماڈلز تیار کرنا ہی کافی نہیں ہوگا بلکہ صارفین کی ترجیحات، اعتماد اور قانونی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
مارک زکربرگ کے بیان سے ایک بار پھر یہ سوال سامنے آیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کی حفاظت اور انسانی کنٹرول کو کس طرح یقینی بنایا جائے، آنے والے وقت میں اے آئی کمپنیوں کی کامیابی میں یہ عوامل بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔