ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، اپنا دفاع کرینگے ، صدرپزشکیان

ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، اپنا دفاع کرینگے ، صدرپزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا  ہے کہ ایران ملک کو تسلیمِ شکست یا اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے ڈالے جانے والے کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے صدارتی عہدے کے 2 سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں اور سلامتی کا تحفظ کر رہا ہے، اگر ایران کے خلاف دباؤ اور دھمکیاں ختم ہو جائیں تو کشیدگی جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔

ایرانی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا  کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان حقوق کا دفاع جاری رکھے گا جنہیں وہ اپنے حقوق سمجھتا ہے، اور اپنی فوجی و دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گا۔

مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایران لبنان میں جنگ روکنے، ناکہ بندی ختم کروانے اور بعض پابندیوں میں نرمی کروانے میں کامیاب رہا۔

 مسعود پزشکیان کاکہنا تھا  کہ اگر وہ ہمیں زبردستی جھکانے یا اطاعت پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے تو ہم لڑیں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی سر جھکائیں گے، جب ہم اپنے حقوق حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر ہم اس راستے پر کیوں چلیں جو اسرائیل کی خواہش ہے؟”

ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر حملوں کے لیے خطے کے ممالک کی سر زمین استعمال کر رہا ہے، ہم اس کے خلاف اپنا دفاع کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ اور مسلح افواج کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی مشکل حالات پر قابو پانے کا بنیادی عنصر رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ بلااشتعال جارحیت کے دوران ایران کے فوجی ردِعمل کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے ملک کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے  کہا کہ ہمیں اپنے دفاع پر مجبور کیا گیا، اور خدا کی قسم، ہمارے جنگجوؤں، ایرو اسپیس فورسز، فوج، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور تمام فوجی اہلکاروں نے بھرپور دفاع کیا اور دنیا کو حیران کر دیا۔

ایرانی صدر نے اسرائیلی حکومت اور امریکا کو ایران کے خلاف خلیجِ فارس کے ممالک کو متحد کرنے کی کوششوں پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب جو جنگ شروع ہوئی ہے، اس کے ذریعے اسرائیل اور امریکا خلیجِ فارس کے ممالک کو ہمارے خلاف متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ہم اپنی طرف سے اس عمل کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مذاکرات کی کامیابی کا انحصار طے شدہ ذمہ داریوں پر عملدرآمد ہے، ایرانی صدرمسعود پزشکیان

انہوں نے کہا کہ تل ابیب اور واشنگٹن کی جانب سے اشتعال انگیزیوں کے باوجود ایران مسلم اتحاد پر یقین رکھتا ہے اور شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی بنیاد نہیں سمجھتا، یہ میرا یقین اور عقیدہ ہے، اور میں یہ بات محض نعرے کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ اس لیے کہ میں حقیقتاً اس پر یقین رکھتا ہوں کہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔

پزشکیان نے اس خیال کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران علاقائی توسیع چاہتا ہے یا ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا  کہ ہمارا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے، اس کی سرزمین پر قبضہ کرنے یا اپنی سرحدیں پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں ، صہیونیوں کے برعکس، جو درحقیقت ایک گریٹر اسرائیل کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں، ہم خطے کے ممالک کے ہمسائے ہیں، ہماری ان کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہئے۔

editor

Related Articles