جے یو آئی اور تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تحریک کے حوالے سے جاری رابطوں کی اندرونی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے دی گئی تاریخ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے،جے یو آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اتنی طویل تاریخ کا اعلان غیر معمولی ہے، کیونکہ عام طور پر عدالتوں سے بھی اتنی طویل تاریخ نہیں ملتی۔
مذاکرات کے دو ادوار مکمل
پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی تحریک شروع کرنے کے معاملے پر دو دور ہو چکے ہیں، تاہم تحریک انصاف کی جانب سے واضح فیصلے نہ ہونے کے باعث بات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو پی ٹی آئی کی قیادت اس معاملے پر سنجیدہ نہیں یا پھر فیصلہ سازی کا اختیار واضح نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان سیاسی تحریک کے معاملے پر بات چیت کا تیسرا دور بھی جاری ہے، تاہم اب تک کسی حتمی لائحہ عمل پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
عمران خان کی رہائی کا معاملہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی جانب سے سیاسی تحریک کے نکات میں عمران خان کی رہائی کو شامل کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی، جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی رہائی ان کا سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔
اتحاد اور حکومت میں شمولیت
ذرائع کے مطابق اگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان کسی قسم کا سیاسی اتحاد بنتا ہے تو تحریک انصاف کی جانب سے صوبائی حکومت میں حصہ یا شراکت داری کا مطالبہ سامنے نہیں آیا۔
تحریری معاہدے پر زور
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ ماضی میں بھی معاملات طے کرنے کی کوشش ہوئی، لیکن تحریک انصاف کی جانب سے بات چیت کے بعد پیچھے ہٹنے کا رویہ رہا ہے۔
جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ آئندہ اگر کسی سیاسی تحریک کے حوالے سے نکات طے کیے جاتے ہیں تو انہیں تحریری شکل میں لایا جائے گا تاکہ دونوں فریق اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔
جے یو آئی چاہتی ہے کہ کسی بھی مشترکہ سیاسی حکمت عملی سے قبل تمام معاملات واضح اور تحریری طور پر طے کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اختلافات سے بچا جا سکے۔