وزیراعظم شہباز شریف 14 اگست کو تاجروں کے لیے کون سا بڑا تحفہ لانے والے ہیں؟

وزیراعظم شہباز شریف 14 اگست کو تاجروں کے لیے کون سا بڑا تحفہ لانے والے ہیں؟

وزیراعظم محمد شہباز شریف 14 اگست کو تاجروں کے لیے آسان ٹیکس سکیم اور رواں مالی سال کے انکم ٹیکس گوشواروں کا نیا فارم متعارف کرائیں گے۔

مجوزہ اسکیم کے تحت 30 ستمبر کے بعد گوشوارے جمع کرانے والے تاجروں پر 25 ہزار روپے جرمانہ اور اتنی ہی رجسٹریشن فیس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آسان ٹیکس سکیم اور اہم تجاویز

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے تاجر برادری کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ان کے لیے گوشوارے جمع کرانے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک نئی ‘آسان ٹیکس سکیم’ تیار کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ای۔ ٹیکسی اسکیم کی قرعہ اندازی کب ہوگی؟ حکومت کا بڑا اعلان

اس اسکیم کا باضابطہ اجرا 14 اگست کو کیا جائے گا، جس کے تحت کاروباری افراد اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے الگ الگ انکم ٹیکس گوشوارہ فارم لائے جائیں گے۔

حکومت کی طرف سے ان تاجروں کو مراعات دینے کی بھی تجویز ہے جو مقررہ تاریخ یعنی 30 ستمبر تک اپنے گوشوارے جمع کرا دیں گے۔

بروقت عمل کرنے والوں کو نہ صرف اسکیم کی رجسٹریشن فیس سے مکمل چھوٹ ملے گی بلکہ انہیں 25 ہزار روپے کی مالیت کی ایک خصوصی رجسٹریشن پلیٹ بھی فراہم کی جائے گی۔

تاخیر کرنے والوں کے لیے سزائیں اور جرمانوں کا نفاذ

دوسری جانب، جو تاجر یا کاروباری افراد 30 ستمبر کی مقررہ آخری تاریخ کے بعد اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائیں گے، انہیں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایسے تاخیر کرنے والے تاجروں پر 25 ہزار روپے کی رجسٹریشن فیس کے ساتھ ساتھ 25 ہزار روپے کا اضافی جرمانہ عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

حکومت کا بنیادی مقصد اس سختی کے ذریعے تاجروں کو وقت کی پابندی کا عادی بنانا اور ٹیکس کے نظام میں نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔

البتہ، حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جرمانوں اور مراعات سے متعلق یہ تمام تفصیلات فی الحال ذرائع کی تجاویز ہیں اور حتمی قواعد کا باضابطہ اطلاق متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کے بعد ہی ہوگا۔

تاجر برادری اور ٹیکس نیٹ کا دیرینہ تنازع

پاکستان میں تاجر برادری اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان ٹیکس کے معاملات اور گوشوارے جمع کرانے کے طریقہ کار پر طویل عرصے سے کشمکش چلی آ رہی ہے۔

مزید پڑھیں:آسان اقساط پر ای-ٹیکسی اسکیم کا آغاز، درخواست کا طریقہ کار اور آخری تاریخ سمیت اہم معلومات سامنے آگئیں

تاجر ہمیشہ سے پیچیدہ ٹیکس فارمز، سخت قوانین اور حکومتی اداروں کی مبینہ مداخلت کی شکایت کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکس نیٹ میں تاجروں کی مطلوبہ شمولیت ممکن نہیں ہو سکی۔

پچھلے کئی سالوں سے حکومت اور تاجر رہنماؤں کے درمیان بارہا مذاکرات ہوتے رہے ہیں تاکہ ایک ایسا آسان نظام بنایا جا سکے جو تاجروں کے لیے بھی قابلِ قبول ہو اور قومی خزانے کی آمدنی میں بھی اضافہ کر سکے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت اب 14 اگست کے موقع پر اس نئی آسان اسکیم کے ذریعے تاجروں کا اعتماد جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کیا یہ اسکیم ٹیکس کلچر کو بدل سکے گی؟

تجزیہ کاروں کے مطابق تاجروں کے لیے علیحدہ فارمز کا اجرا اور بروقت ٹیکس دینے والوں کو مراعات دینا ایک مثبت قدم ہے، جو کاروباری طبقے کے لیے سہولت پیدا کر سکتا ہے۔

تاہم30 ستمبر کے بعد سخت جرمانوں اور فیسوں کا نفاذ ایک ایسا پہلو ہے جس پر تاجر برادری کی طرف سے شدید ردعمل بھی آ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئندہ بجٹ میں بینک ڈیپازٹس اور بچت اسکیموں پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز

کسی بھی ٹیکس اصلاحات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ آیا اس کا نفاذ زبردستی سے ہو رہا ہے یا پھر ایک پرکشش اور آسان فہم ماحول کے ذریعے۔

اگر حکومت تاجروں کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انہیں یہ یقین دلاتی ہے کہ یہ نظام ان کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنے گا، تو پاکستان کی معیشت میں ٹیکس وصولی کا دائرہ کار نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔

Related Articles