بھارت میں ایک 16 سالہ لڑکا ایسی پراسرار بیماری میں مبتلا ہے جس کے باعث وہ گزشتہ5 برس سے دن رات پانی میں رہنے پر مجبور ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مرشد آباد کا رہائشی اقبال ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں شدید جلن اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ لڑکے کے مطابق پانی سے باہر آتے ہی اس کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ دوبارہ تالاب میں جانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
اقبال کا کہنا ہے کہ وہ کئی برس سے مسلسل پانی میں رہ رہا ہے کیونکہ پانی سے باہر نکلنا اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوجاتا ہے۔ طویل عرصے تک پانی میں رہنے کے باعث اس کی جلد بھی متاثر ہونا شروع ہوگئی ہے اور جسم کی کھال سفید پڑنے کے ساتھ گلنے لگی ہے۔
مسلسل پانی میں رہنے کے باوجود اقبال کو کھانسی اور سردی کی شکایت بھی رہتی ہے، جس سے اس کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق انہوں نے اقبال کا سرکاری اسپتال سے علاج بھی کرایا، تاہم اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ خاندان کی مالی حالت بہتر نہ ہونے کے باعث وہ مہنگے نجی اسپتال میں علاج کرانے سے بھی قاصر ہیں۔
اہلخانہ نے حکومت سے اقبال کے علاج کے لیے فوری مدد کی اپیل کی ہے، جبکہ مقامی افراد نے بھی اس کی مدد کے لیے چندہ مہم شروع کردی ہے۔ اقبال کی بیماری نے اس کی معمول کی زندگی چھین لی ہے اور وہ گزشتہ پانچ برس سے گھر کے بجائے تالاب میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تاہم بیماری کی حتمی تشخیص اور اس کے علاج کے بارے میں مستند طبی معلومات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔