بجلی کے آسمان کو چھوتے نرخوں سے تنگ پاکستانی صارفین نے روایتی گرڈ سے جان چھڑاتے ہوئے روفتاپ سولر سسٹمز کا رخ کر لیا ہے، جہاں ایک عام گھرانہ سولر اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے ماہانہ 50,000 سے 90,000 روپے تک کی بچت کر رہا ہے۔
ایک مطالعے کے مطابق 10 کلوواٹ کا نظام اپنی ابتدائی لاگت کو محض 2.5 سے 4 سال کے اندر مکمل طور پر پورا کر لیتا ہے۔
سولر جنریشن اور ماہانہ بچت کی تفصیلات
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ایک عام 10 کلوواٹ کا روفتاپ سولر سسٹم مقام اور موسمی حالات کے حساب سے ماہانہ تقریباً 1,200 سے 1,500 یونٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جو صارفین 45 سے 60 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل بھر رہے تھے، وہ اب اپنے گھر کی کھپت سولر سے پوری کر کے ماہانہ 50,000 سے 90,000 روپے تک کی براہِ راست بچت حاصل کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ نیٹ میٹرنگ کے تحت قومی گرڈ کو اضافی بجلی فروخت کر کے اضافی مالی فوائد بھی سمیٹے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، جو گھرانہ 1,200 یونٹ استعمال کرتا ہے اور سولر سے 1,400 یونٹ بناتا ہے، وہ تقریباً 400 یونٹ گرڈ کو واپس بیچ کر ماہانہ 55,000 سے 60,000 روپے تک کا مشترکہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ابتدائی لاگت اور طویل مدتی مالی فوائد
جہاں تک 10 کلوواٹ کے نظام کی خریداری اور تنصیب کا تعلق ہے، تو آلات کے معیار اور انسٹالیشن کے حساب سے اس کی ابتدائی لاگت 1.5 ملین سے 2.2 ملین روپے کے درمیان آتی ہے۔
تاہم صنعت کے ماہرین کا تخمینہ ہے کہ 20 سے 25 سال کی طویل عمر کے دوران صارفین اس نظام کی بدولت 15 ملین سے 25 ملین روپے تک کی بڑی بچت کر سکتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے اب مارکیٹ کا رجحان بڑے بیٹری سسٹمز کی طرف بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں 14 سے 16 کلوواٹ آورز کی بیٹریاں خاصی مقبول ہو رہی ہیں تاکہ طویل بجلی کی بندش اور مستقبل کے ٹیرف بڑھنے سے بچا جا سکے۔
پاکستان میں سولر کا انقلاب اور گرڈ پر دباؤ
پاکستان میں سولر انرجی کے فروغ کے پیچھے بنیادی محرکات بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ ہیں۔
مالی سال 2021 سے مالی سال 2025 کے دوران روپے کی قدر میں تقریباً 75 فیصد کمی واقع ہوئی، بجلی کے ٹیرف میں 140 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ دوسری طرف سولر پینل کی درآمدی قیمتیں تقریباً 60 فیصد تک سستی ہو گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت تیزی سے بڑھتے ہوئے جون 2026 تک تقریباً 7,000 میگاواٹ تک جا پہنچی ہے، جو کہ چھ سال پرانی سطح سے تقریباً 37 گنا زیادہ ہے۔
اس تیز رفتار اضافے کی وجہ سے اب قومی گرڈ اور پاور سسٹم پر مالی اور تکنیکی دباؤ بڑھ رہا ہے، بالخصوص سردیوں کے موسم میں جب بجلی کی کھپت کے نمونے تبدیل ہوتے ہیں اور ‘ڈک کرو’ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
کیا پالیسی میں تبدیلیاں سولر کے مستقبل کو متاثر کریں گی؟
گرڈ پر بڑھتے ہوئے اس تکنیکی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اب اپنی پالیسی کا رخ نیٹ میٹرنگ سے ہٹا کر ‘نیٹ بلنگ’ کی طرف کرنے پر غور کر رہی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اور پاور ڈویژن کی جانب سے طے کردہ نئی قیمتوں اور قواعد و ضوابط کا آنے والے وقتوں میں صارفین کے منافع پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اس کے باوجود، جس طرح عوام نے مہنگی بجلی سے جان چھڑانے کے لیے سولر اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کو اپنایا ہے، وہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب توانائی کے متبادل اور پائیدار ذرائع کی طرف مستقل طور پر منتقل ہو چکا ہے۔
حکومت اور ریگولیٹرز کو چاہیے کہ وہ گرڈ کے استحکام اور صارفین کے مفادات کے درمیان توازن قائم کریں تاکہ ملکی معیشت اور عام آدمی دونوں کا نقصان نہ ہو۔