ہفتہ قبل سونا خریداروں کو بڑا فائدہ ، سونے کی نئی قیمتوں نے حیران کر دیا

ہفتہ قبل سونا خریداروں کو بڑا فائدہ ، سونے کی نئی قیمتوں نے حیران کر دیا

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور دنیا بھر میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اس کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 0.46 فیصد اضافے کے بعد 4 ہزار 389 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال ہے۔ جب دنیا میں جنگ یا معاشی بے یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار عموماً سونے میں سرمایہ لگاتے ہیں، جس سے اس کی قیمت بڑھنے لگتی ہے۔

اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے افراطِ زر کے اعداد و شمار پر ہیں۔ امریکا میں جولائی کی مہنگائی کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ امریکی مرکزی بینک آئندہ شرحِ سود میں کیا فیصلہ کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین ہوشیار، پنشن کا نظام بدل گیا ،تفصیلات سامنے آگئیں

ماہرین کے مطابق اگر امریکا میں مہنگائی کم ہونے کے اشارے ملتے ہیں تو شرحِ سود میں کمی کی توقع بڑھ سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں سونے کی قیمت مزید بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سونا خود کوئی سود نہیں دیتا۔ جب شرحِ سود کم ہوتی ہے تو سرمایہ کاروں کے لیے سونا دوسرے سرمایہ کاری کے ذرائع کے مقابلے میں زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔

دوسری جانب ایشیائی مارکیٹوں میں بھی سرمایہ کار محتاط نظر آئے۔ شمالی کوریا کے میزائل تجربے اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے بھی عالمی مارکیٹ پر اثر ڈالا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی ڈاکٹر بیٹی سے متعلق خبر نے سب کو حیران کر دیا

پاکستان میں بھی عالمی سونے کی قیمت میں اضافے کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، مقامی طلب اور مارکیٹ کی صورتحال سے بھی متاثر ہوتی ہے۔

اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت مزید بڑھتی ہے اور روپے کی قدر میں بھی بڑی بہتری نہیں آتی تو پاکستان میں فی تولہ سونا مزید مہنگا ہونے کا امکان موجود ہے۔

آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت کا رخ بنیادی طور پر امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار، شرحِ سود سے متعلق توقعات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طے کرے گی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles