فلک بینی کے شوقین افراد کے لیے 12 اگست 2026 کی صبح آسمان پر ایک دلچسپ فلکیاتی منظر دیکھنے کا موقع ہوگا۔ طلوع آفتاب سے قبل مشتری، عطارد، مریخ، یورینس، زحل اور نیپچون آسمان کے ایک ہی حصے میں دکھائی دے سکتے ہیں۔
عام طور پر اس طرح کے منظر کو ’سیاروں کی پریڈ‘ کہا جاتا ہے، تاہم فلکیات میں اس کی کوئی باقاعدہ سائنسی اصطلاح موجود نہیں۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق زمین سے مشاہدہ کرنے پر سیارے اکثر آسمان میں ایک فرضی لکیر یا قوس کے قریب دکھائی دیتے ہیں، جسے ’ایکِلپٹک‘ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مختلف سیارے ایک ہی سمت میں دکھائی دے سکتے ہیں۔؎
تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام چھ سیارے عام آنکھ سے واضح طور پر نظر آئیں گے۔ مناسب حالات میں عطارد، مریخ، مشتری اور زحل کو بغیر دوربین کے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ یورینس کے مشاہدے کے لیے بائنوکیولرز یا دوربین کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ نیپچون کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ ضروری ہوگی۔
طلوع آفتاب سے پہلے آسمان کی روشنی اور افق کے قریب موجود عمارتیں، درخت یا دیگر رکاوٹیں بھی مشاہدے میں مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔ خاص طور پر عطارد اور مشتری جیسے کم بلندی پر موجود سیاروں کو دیکھنے کے لیے صاف اور کھلا افق ضروری ہوگا۔
ناسا کی جولائی 2026 کی اسکائی واچنگ گائیڈ کے مطابق اس دوران مریخ، زحل اور یورینس کو صبح کے وقت ایک ساتھ دیکھا جاسکتا تھا، تاہم یورینس کے لیے دوربین یا بائنوکیولرز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ماہرین فلکیات کے مطابق ’سیاروں کی پریڈ‘ کا مطلب یہ نہیں کہ تمام سیارے خلا میں ایک سیدھی قطار میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دراصل یہ زمین سے نظر آنے والا ایک بصری منظر ہے، جس میں کئی سیارے آسمان کے ایک ہی راستے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ اگر موسم صاف ہو اور افق کھلا ہو تو 12 اگست کی صبح فلک بینی کے شوقین افراد کے لیے یہ منظر خاصی دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔