پاکستان میں نوجوانوں اور ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومتِ پاکستان، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور عالمی ادارہ محنت (ILO) نے صحت اور کیئر کے شعبے سے وابستہ 20 ہزار کارکنوں کو بہتر ہنر روزگار اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے نیا پروگرام شروع کردیا ہے۔
اس منصوبے کا پہلا مرحلہ جولائی 2026 سے جولائی 2027 تک جاری رہے گا۔ اس مرحلے میں 20 ہزار ہیلتھ اور کیئر ورکرز کو مختلف شعبوں میں مہارتیں بہتر بنانے، بہتر روزگار تک رسائی اور کام کے محفوظ ماحول کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی۔
صرف نوکری نہیں ہنر بھی ملے گا
اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنا نہیں بلکہ نوجوانوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں میں اضافہ بھی ہے۔
یہ منصوبہ خاص طور پر نرسنگ، الائیڈ ہیلتھ اور کیئر سروسز سے وابستہ افراد کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ پروگرام نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ ایجوکیشن میں جاری اصلاحات کو بھی سپورٹ کرے گا۔
اس لیے نرسنگ، طبی معاونت اور دیگر صحت سے متعلق شعبوں میں تعلیم یا تربیت حاصل کرنے والے نوجوان اس منصوبے پر خصوصی نظر رکھ سکتے ہیں۔
20 ہزار کے بعد مزید 80 ہزار افراد کا ہدف
اس منصوبے کو صرف ایک سال کے پروگرام تک محدود نہیں رکھا گیا۔ پہلے مرحلے میں 20 ہزار ہیلتھ اور کیئر ورکرز کو سپورٹ کرنے کے بعد دوسرے مرحلے میں مزید 80 ہزار کارکنوں تک پہنچنے کی بنیاد تیار کی جائے گی۔
یعنی مجموعی طور پر یہ پروگرام مستقبل میں ایک لاکھ افراد تک پہنچنے کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اگر دوسرا مرحلہ بھی منصوبے کے مطابق آگے بڑھتا ہے۔
پروگرام میں حکومت پاکستان کے ساتھ اقوام متحدہ کا ریزیڈنٹ کوآرڈی نیٹر آفس، عالمی ادارہ محنت (ILO) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) شامل ہیں۔ منصوبے کی نگرانی کے لیے مشترکہ اسٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس میں متعلقہ حکومتی ادارے اور ترقیاتی شراکت دار شامل ہیں۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ حکومت روزگار اور سماجی تحفظ کو ملکی ترقی کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دے رہی ہے۔
ILO پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر کے مطابق پروگرام کے ذریعے صحت کے شعبے میں بہتر مہارتوں، محفوظ کام کی جگہوں، باقاعدہ روزگار اور سماجی تحفظ تک رسائی کو فروغ دیا جائے گا۔
نوجوانوں کے لیے اصل موقع کیا ہے؟
اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ صحت کا شعبہ صرف علاج معالجے تک محدود نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بڑا شعبہ بھی بن سکتا ہے۔ بہتر تربیت اور بین الاقوامی معیار کی مہارتیں نوجوانوں کے لیے پاکستان کے اندر اور مستقبل میں بیرون ملک روزگار کے امکانات بھی بہتر کرسکتی ہیں۔
حکام کے مطابق پروگرام صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ روزگار، مہارتوں اور سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے گا