وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا کارنامہ، 22 سال بعد تاریخ بدل گئی

وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا کارنامہ، 22 سال بعد تاریخ بدل گئی

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم نے مالیاتی محاذ پر اہم کامیابی حاصل کرلی ہے وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے جبکہ پرائمری سرپلس 26 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران مالی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد تک محدود رہا، جو گزشتہ 22 سال کے دوران کم ترین سطح قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے دوران مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں بہتری اور اخراجات کو قابو میں رکھنے کے اقدامات کے نتیجے میں ملک مسلسل تین سال سے پرائمری سرپلس ریکارڈ کررہا ہے۔

مالی سال 2025-26 میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2.9 فیصد تک پہنچ گیا، جو 26 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ حکومت اسے ملکی معیشت میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فوجی اہلکاروں اور پارلیمنٹ سے متعلق بڑے فیصلے ، صدر زرداری کا اہم اعلان

محصولات میں بھی نمایاں اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے مجموعی طور پر 19 ہزار 800 ارب روپے کے محصولات حاصل کیے جن میں 14 ہزار 800 ارب روپے ٹیکس آمدنی کی صورت میں حاصل ہوئے۔

حکومتی مالیاتی حکمت عملی میں محصولات بڑھانے کے ساتھ اخراجات کو قابو میں رکھنے پر بھی توجہ دی گئی، جس کے نتیجے میں مالی خسارے کو محدود رکھنے میں مدد ملی۔

سود کی ادائیگی میں 1950 ارب روپے کمی

وزارت خزانہ کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کم ہوئی۔

مالی سال 2024-25 میں سود کی مد میں 8 ہزار 900 ارب روپے ادا کیے گئے تھے، جو مالی سال 2025-26 میں کم ہوکر 6 ہزار 950 ارب روپے رہ گئے۔

یعنی ایک سال میں سود کی ادائیگیوں میں تقریباً 1 ہزار 950 ارب روپے کی کمی ریکارڈ ہوئی۔

سبسڈیز کے اخراجات بھی کم ہوئے

اعداد و شمار کے مطابق سبسڈیز کی مد میں اخراجات 22 فیصد کم ہوئے اور تقریباً ایک ہزار ایک ارب روپے رہے، جبکہ گزشتہ سال یہ اخراجات تقریباً ایک ہزار 300 ارب روپے تھے۔

دوسری جانب دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2 ہزار 588 ارب روپے ہوگئے۔

ترقیاتی اخراجات گزشتہ مالی سال کے 786 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 727 ارب روپے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:موبائل صارفین کیلئے خوشخبری ، ہفتہ اور ماہانہ سستے پیکیجز کی تفصیلات آ گئیں

22 سال بعد اہم مالی کامیابی

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم کے لیے وزارت خزانہ کے یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کہ مالی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آنے کے ساتھ پرائمری سرپلس بھی 26 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا ہے۔

حکومت کے مطابق مسلسل تین سال پرائمری سرپلس برقرار رہنا مالیاتی نظم و ضبط اور معیشت کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی میں اہم پیش رفت ہے۔

تاہم معاشی ماہرین کے مطابق مالی خسارے اور پرائمری سرپلس میں بہتری کے ساتھ ترقیاتی اخراجات، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ، مہنگائی، روزگار اور معاشی ترقی جیسے دیگر اشاریوں کو بھی مجموعی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت سامنے رکھنا ضروری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کے لیے بہرحال 22 سال کی کم ترین مالی خسارے کی سطح اور 26 سال کی بلند ترین پرائمری سرپلس کی رپورٹ ایک اہم معاشی سنگِ میل ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles