پاکستانی طلباء کے برطانوی ویزوں میں تاخیر کا معاملہ حل ہونے کی امید ، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ویزوں کے اجرا میں تاخیر دور کرنے کے لیے تعاون اور ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے، جس سے ویزوں کے منتظر سینکڑوں پاکستانی طلباء کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات، تعلیمی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینکڑوں پاکستانی طلباء ویزوں میں تاخیر سےپریشان
اس ملاقات کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے پاکستانی طلباء کے برطانوی ویزوں میں تاخیر کا معاملہ خصوصی طور پر اٹھایا ، وفاقی وزیر نے برطانوی ہائی کمشنر کو حکومت پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں پاکستانی طلباء ویزوں میں تاخیر کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ویزوں کے بروقت اجرا میں تاخیر کے باعث متعدد طلباء کا تعلیمی سال ضائع ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پاکستانی طلباء کے لیے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی سرگرم، برطانوی ہائی کمشنر کی یقین دہانی
اعظم نذیر تارڑ نے برطانوی ہائی کمشنر کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر بیرون ملک زیر تعلیم پاکستانی طلباء سے متعلق قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے ان کی سربراہی میں ایک کمیٹی کام کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق کمیٹی نے اس معاملے پر اپنی سفارشات بھی مرتب کر لی ہیں، جبکہ پاکستانی طلباء کے بیرون ملک تعلیم سے متعلق قانونی و ادارہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر کام جاری ہے۔
ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے پاکستانی طلباء کے ویزوں میں تاخیر کا معاملہ حل کرنے کے لیے تعاون اور اقدامات کی یقین دہانی کرائی ، دونوں جانب سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلیمی روابط کو مزید مضبوط بنانے، جبکہ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان تعاون اور روابط کو مزید مستحکم کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں وزیر مملکت برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق بیرسٹر عقیل ملک بھی موجود تھے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ویزوں کے اجرا میں تاخیر دور ہوگی اور طلباء کو اپنی تعلیم کے سلسلے میں مزید مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔