عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر نا کوئی رہائی کا پروانہ جاری ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی نئی رعایت دی گئی ہے جو اس سے پہلے دستیاب نہ ہو۔
موجودہ صورتحال بنیادی طور پر ایک طبی کارروائی سے متعلق ہے، تاہم پی ٹی آئی کی طرف سے اسے غیر معمولی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اس پارٹی کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے ۔
پہلے بھی طبی معائنے ہوتے رہے
عمران خان کو اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا جاچکا ہے،مختلف ڈاکٹروں، ماہرین اور میڈیکل بورڈز کی جانب سے ان کا معائنہ کیا گیا اور طبی رپورٹس بھی مرتب کی جاتی رہی ہیں،موجودہ معاملے میں بھی سپریم کورٹ کے حکم پر بنیادی طور پر طبی معائنے اور علاج کا انتظام کیا گیا ہے، جسے پی ٹی آئی اپنی سیاسی فتح قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
ہر طبی اقدام کو سیاسی کامیابی قرار دینا
پی ٹی آئی کی جانب سے معمول کی کارروائیوں کو غیر معمولی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ہر طبی معائنے کو تاریخی ریلیف‘‘ اور عدالتی آبزرویشن کو ڑی فتح قرار دے کر سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور گالم گلوچ بریگیڈ کی طرف سے ایک عدالتی حکم پر ایک قیدی کے معمول کے میڈیکل پروسیجر کو سیاسی فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
نہ کوئی انقلابی عدالتی حکم سامنے آیا ہے اور نہ ہی ایسا خصوصی انتظام کیا گیا ہے جو پہلے کبھی نہ کیا گیا ہو، تاہم سوشل میڈیا پر اس معاملے کو پی ٹی آئی کی طرف سے غیر معمولی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو اپنا کا پرانا اور گھسا پٹا وطیرہ ہے ۔
سیاسی بیانیے اور حقیقت میں فرق قرار
پی ٹی آئی کی یہ روایت رہی ہے کہ پہلے کسی معمول کے اقدام کو بڑا سیاسی واقعہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، پھر اسی بنیاد پر جشن منایا جاتا ہے اور اسے تاریخی کامیابی قرار دیا جاتا ہے،موجودہ معاملہ بھی طبی سہولت اور علاج سے متعلق ہے، جبکہ اسے سیاسی فتح قرار دینے سے اصل صورتحال تبدیل نہیں ہوتی قیدی قیدی ہی رہے گا ۔