سپریم کورٹ کا عمران خان سے متعلق 7 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری

سپریم کورٹ کا عمران خان سے متعلق 7 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری

عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور علاج سے متعلق سپریم کورٹ کاتحریری حکم جاری سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران احمد خان نیازی کو طبی معائنے اور علاج کے لیے آئندہ دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دے دیا

عدالت نے قرار دیا ہے کہ قید میں ہونے کے باوجود کسی شخص کو انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولیات کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ 18 اگست 2026 کو جاری حکم میں عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی معائنے اور صحت کی صورتحال سے متعلق پیش کی گئی تفصیلات بظاہر ان کی صحت میں بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہیں اس لیے مقدمے کی قابل سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا اور فی الحال طبی علاج کے لیے عبوری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ نے متعلقہ حکومت اور حکام کو ہدایت کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے اب تک ان کے مکمل طبی ریکارڈ عدالت میں پیش کیے جائیں ریکارڈ میں تمام میڈیکل ٹیسٹ، رپورٹس، نسخے، ڈاکٹروں کی آرا، طبی معائنے کی رپورٹس اور فراہم کیے گئے علاج کی مکمل تفصیلات شامل ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:موٹروے پر سفر کرنے والوں کی بڑی پریشانی دور،چالان سے متعلق بڑا اعلان

میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم

عدالت نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد بانی پی ٹی آئی کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، میڈیکل بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، اندرونی امراض کے ماہر، آنکھوں کے ماہر اور کارڈیالوجسٹ شامل ہوں گے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شریک ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

علاج کے اخراجات خاندان برداشت کرے گا

حکم نامے کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کے علاج اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے ضروری اخراجات وہ خود یا ان کے اہل خانہ برداشت کریں گے۔ عدالت نے حکومت کو ان کے ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران اور علاج کے پورے عرصے میں مناسب سیکیورٹی انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

ہفتے میں ایک ملاقات کی اجازت

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہےاس کے علاوہ انہیں اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

گزشتہ تین ماہ کی ملاقاتوں کی تفصیلات طلب

عدالت نے حکومت سے گزشتہ تین ماہ کے دوران بانی پی ٹی آئی کی اہل خانہ اور وکلا سے ہونے والی تمام ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں متعلقہ حکومت اور حکام کو یہ معلومات ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

صحت سے متعلق معلومات میڈیا کو دینے پر پابندی

عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ، سیاسی جماعت کے ارکان یا ان سے وابستہ وکلا ان کی صحت کی صورتحال یا میڈیکل رپورٹس میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بانی پی ٹی آئی یا ان سے وابستہ کوئی شخص ان کی صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹس یا معلومات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

شفا ہسپتال میں سیاسی اجتماع پر پابندی

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کی حدود میں کسی بھی قسم کا عوامی اجتماع منعقد نہ کرنے کی ہدایت کی ہےعدالت نے خبردار کیا کہ حکم کی خلاف ورزی کو سختی سے دیکھا جائے گا اور فراہم کی گئی سہولیات واپس بھی لی جاسکتی ہیں۔ حکم نامے کے مطابق اگر حکومت کو سہولیات کے غلط استعمال سے متعلق کوئی شکایت ہو تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتی ہے اسی طرح بانی پی ٹی آئی یا ان کے اہل خانہ کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی شکایت ہو تو وہ بھی عدالت سے رجوع کرنے کے مجاز ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کے بل کیوں بڑھنے لگے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

تمام مقدمات کی تفصیلات بھی طلب

سپریم کورٹ نے متعلقہ حکومت سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ان تمام مقدمات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کی ہیں جن میں وہ ملزم، گرفتار، زیرِ سماعت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں یا جن میں انہیں سزا سنائی جاچکی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بھی سوالات

سپریم کورٹ کے سامنے بانی پی ٹی آئی سے متعلق دیگر مقدمات بھی زیر سماعت تھے عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی ختم کیے جانے کے معاملے پر بھی بظاہر اعتراضات کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ ہائیکورٹ کے حکم میں توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل تحریری وضاحتیں جمع کرانے اور ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے

دوبارہ سماعت

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق یہ معاملہ جزوی طور پر زیر سماعت رہے گا۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ہونے وال طبی معائنے اور علاج کی مکمل رپورٹس بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائیں گی عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے 16 ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles