خود سے باتیں کرنا یا خودکلامی کرنا عام طور پر ایک عجیب عادت سمجھا جاتا ہے اور بعض لوگ اسے توجہ کی کمی یا ذہنی کمزوری سے بھی جوڑتے ہیں، تاہم مختلف تحقیقی مطالعات میں خودکلامی کے کچھ مثبت اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق خودکلامی بعض افراد کو اپنی توجہ مرکوز رکھنے، معلومات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور یادداشت کو منظم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
2012 میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ جو افراد کسی چیز کا نام خود سے دہراتے ہیں، وہ تصاویر میں موجود مطلوبہ اشیا کو نسبتاً تیزی سے شناخت کرلیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خود سے بات کرنا بعض حالات میں ذہنی توجہ بڑھانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
اسی طرح 2023 کی ایک تحقیق میں خودکلامی اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے عندیہ ملا کہ خود سے بات کرنے کی عادت بعض افراد کو اپنے خیالات اور رویوں کو سمجھنے اور اپنے جذبات و اعمال پر بہتر کنٹرول رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خودکلامی ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص خود سے مثبت انداز میں بات کرے، اپنے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے یا کسی کام کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے خیالات کو بلند آواز میں بیان کرے تو یہ مفید ہوسکتا ہے۔
تاہم مسلسل خود پر تنقید کرنا یا منفی باتیں دہراتے رہنا فائدہ مند نہیں، بلکہ اس کے ذہنی اور جذباتی اثرات منفی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کبھی خود سے باتیں کرتے ہیں تو اسے فوراً عجیب یا غیر معمولی رویہ سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ مناسب انداز میں کی جانے والی خودکلامی خیالات کو ترتیب دینے، توجہ برقرار رکھنے اور مسائل کا تجزیہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
البتہ صرف خودکلامی کی عادت کی بنیاد پر کسی شخص کو زیادہ ذہین قرار دینا درست نہیں۔ تحقیق صرف اس عادت اور بعض ذہنی صلاحیتوں کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔