دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہونے والے چلی کے صحرائے اٹاکاما میں ایک ایسی عجیب و غریب نباتات پائی جاتی ہیں جو پہلی نظر میں کسی بڑی سبز چٹان جیسی دکھائی دیتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک زندہ پودا ہے۔
اس پودے کو یاریٹا کہا جاتا ہے۔ یہ اٹاکاما کے سخت اور دشوار ماحول میں زندہ رہنے کے لیے غیر معمولی انداز میں خود کو ڈھال چکا ہے۔ یاریٹا کی سطح پر ہزاروں چھوٹی شاخیں اور پتے انتہائی گھنے انداز میں جڑے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ دور سے سبز کائی سے ڈھکی ہوئی چٹان دکھائی دیتی ہے۔
یہ پودا شدید خشک سالی، تیز دھوپ، انتہائی سرد راتوں اور بلند علاقوں کے مشکل ماحول میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی انتہائی سست رفتار نشوونما ہے۔ بعض پرانے یاریٹا پودوں کی عمر تقریباً 3 ہزار سال تک بتائی گئی ہے، تاہم عمر کے یہ اندازے مختلف نمونوں کے لحاظ سے مختلف ہوسکتے ہیں۔
یعنی جب دنیا میں انسانی تہذیبیں ترقی کررہی تھیں اور نسلیں بدل رہی تھیں، اس دوران بھی یہ حیران کن پودے اسی سخت سرزمین میں خاموشی سے اپنی زندگی جاری رکھے ہوئے تھے۔
یاریٹا اس بات کی دلچسپ مثال ہے کہ قدرت میں زندہ رہنے کے لیے ہمیشہ تیزی یا طاقت ضروری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انتہائی سست رفتاری سے بڑھنا، توانائی محفوظ رکھنا اور ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لینا ہی بقا کا راستہ بن جاتا ہے۔
صحرائے اٹاکاما بظاہر زندگی کے لیے انتہائی ناموافق جگہ ہے، لیکن یاریٹا جیسے پودے ثابت کرتے ہیں کہ قدرت انتہائی سخت ماحول میں بھی زندگی کے حیران کن راز چھپا سکتی ہے۔