یوٹیوبر وجاہت سعید خان نے چند روز قبل ایک وی لاگ میں عمران خان کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا اوریہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ بانی پی ٹی آئی اب دنیا میں نہیں رہے، وجاہت سعید کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی، تاہم اسی سوشل میڈیا متعدد صارفین کی جانب سے اسے مسترد کرتے ہوئے جھوٹا قرار دیا گیا تھا۔
اب عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ان کی صحت تسلی بخش قرار دیے جانے کے بعد وجاہت سعید کے اسی سابقہ دعوے پر ایک بار پھر شدید بحث شروع ہوگئی ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سرٹیفائیڈ جھوٹا قرار دیا جارہا ہے ۔
وجاہت سعید نے اپنے وی لاگ میں عمران خان سے متعلق جو دعویٰ کیا تھا، اب اس کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے بارے میں اتنی بڑی بات کس بنیاد پر کی تھی اور اس دعوے کے ذریعے عوام کو کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی۔
دعوے نے کئی سوالات کھڑے کردیے
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے بعد وجاہت سعید کا سابقہ بیان محض ایک عام بیان نہیں رہا بلکہ اس نے ان کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
کسی شخص کے بارے میں اس نوعیت کا تاثر پیدا کرنا کہ وہ دنیا میں موجود نہیں، انتہائی سنگین بات ہے ایسے دعوے سے نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا ہوسکتی ہے بلکہ متعلقہ شخص کے اہل خانہ اور قریبی لوگوں کو بھی شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
معافی کا مطالبہ
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وجاہت سعید سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے سابقہ جھوٹے بیان پر کھلے الفاظ میں معافی مانگیں اور آئندہ ایسی حرکتوں سے تائب ہوں ۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اتنے حساس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے وجاہت سعید کو اپنے بیان کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، کیونکہ عوام کے سامنے کی جانے والی ایسی باتوں کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔
من گھڑت کہانیوں پر تنقید
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اس نوعیت کے دعوے سامنے آنا انتہائی افسوسناک ہے ،یوٹیوب پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز باتیں کرنا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن کسی انسان کی زندگی اور موت کو موضوع بناکر ایسی باتیں کرنا انتہائی قابلِ مذمت رویہ ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بار بار متنازع اور غیر ذمہ دارانہ دعووں کے ذریعے اپنے ناظرین کو متاثر کرنے کی کوشش کرے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر بات کو سنسنی میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا بالکل وہ شخص خود جھوٹا ہے ۔
وضاحت تو کرنا ہوگی
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے بعد وجاہت سعید کے سابقہ بیان پر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جب بانی پی ٹی آئی طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل ہوئے ہیں تو چند روز قبل ان کے بارے میں اس قدر بڑا دعویٰ کس بنیاد پر کیا گیا تھا۔
اب گیند جھوٹے وجاہت سعید کے کورٹ میں ہے، انہیں اپنے سابقہ جھوٹ پر واضح مؤقف دینا ہوگا تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ اتنا بڑا دعویٰ کس بنیاد پر سامنے آیا تھا۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وجاہت سعید کے سابقہ بیان پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ کسی کی زندگی اور موت سے متعلق دعویٰ کوئی معمولی معاملہ نہیں، ایسی بات کو بنیاد بناکر لوگوں میں خوف و ہراس اور بے یقینی پیدا کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ، قابلِ افسوس اور شرمناک طرزِ عمل ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں محض چند دن کی مقبولیت یا ویوز کے لیے ایسی حساس بات عوام کے سامنے نہیں لانی چاہیے تھی، اب عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے بعد ان کے سابقہ بیان نے خود ان کے طرزِ جھوٹ اور معلومات پیش کرنے کے انداز کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔
اب خاموشی نہیں چلے گی
وجاہت سعید کو اب خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنے سابقہ دعوے کا جواب دینا چاہیے،عمران خان کے حوالے سے کیا گیا بیان اور موجودہ صورتحال ایک دوسرے سے متصادم نظر آتی ہے، اس لیے وضاحت اور معذرت کا مطالبہ فطری طور پر سامنے آرہا ہے۔
ایسے معاملات میں الفاظ کی ذمہ داری سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ ایک سنسنی خیز دعویٰ چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی اور غلط فہمی آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔