پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے ساتھ متحدہ اپوزیشن کے قیام اور سیاسی اتحاد کی منظوری دے دی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بتایا کہ آج اپوزیشن قیادت فضل الرحمان کی دعوت پر ان کی رہائش گاہ جائے گی، جہاں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر مزید مشاورت ہوگی۔
اسد قیصر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کے لیے عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی پوری توجہ 27 ستمبر کی تحریک پر مرکوز ہے۔
پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے بھی فضل الرحمان سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات آج ہوگی اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متعدد امور پر اتفاق رائے ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت سے ناراض قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تاکہ مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
متحدہ اپوزیشن کا قیام
واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے گزشتہ روز متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی سے اہم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈران سے مشاورت ہوئی ہے اور متحدہ اپوزیشن کی طرف جانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں، تاہم اس معاملے پر مزید مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو اتحاد میں شامل کرنے سے متعلق سوال پر فضل الرحمان نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے لیے بھی ماحول سازگار بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
یوں پی ٹی آئی کی جانب سے فضل الرحمان کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کی منظوری کے بعد حکومت مخالف جماعتوں کے درمیان سیاسی رابطوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔