حکومت نے ٹیکس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور مؤثر بنانے کے لیے ایسے کاروباری افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو مقررہ مدت کے اندر اپنے کاروبار کو ایف بی آر یا اس کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک نہیں کریں گے۔
فنانس ایکٹ 2026 کے تحت کاروبار کو ایف بی آر کے نظام کے ساتھ مربوط کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں، فروخت، پیداوار اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کی نگرانی اور رپورٹنگ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
پہلی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ
نئے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص مقررہ مدت کے اندر اپنے کاروبار کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک نہیں کرتا تو اس پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق کاروباری افراد اور اداروں کو مقررہ مدت کے اندر ضروری کارروائی مکمل کرکے اپنے کاروبار کو متعلقہ ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنا ہوگا۔
قانون میں مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں مزید سخت کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اگر ابتدائی جرمانے کے بعد بھی کاروبار ایک ماہ تک ایف بی آر کے نظام سے منسلک نہ کیا جائے تو دوسری مرتبہ 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکس نظام کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں سے متعلق معلومات کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے فروخت، پیداوار اور دیگر مالیاتی ریکارڈ کی نگرانی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت، کاروباری سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی اور ٹیکس سے متعلق معلومات کی ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینا ہے۔