جراسک پارک اب صرف فلم نہیں؟ ڈائنوسار دوبارہ بنانے کی حیران کن بات سامنے آگئی

جراسک پارک اب صرف فلم نہیں؟ ڈائنوسار دوبارہ بنانے کی حیران کن بات سامنے آگئی

اگر کوئی ارب پتی کمپنی اچانک یہ اعلان کرے کہ وہ ’جراسک پارک‘جیسی دنیا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو یہ کسی ڈائنوسار فلم کی ابتدائی کہانی لگتی ہے، جہاں سب کچھ پہلے دلچسپ ہوتا ہے اور پھر حالات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں۔

یہ دعویٰ دراصل ایلون مسک کی برین چِپ کمپنی نیورالنک کے شریک بانی میکس ہوڈک نے اپریل 2021 میں کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر چاہیں تو ’’جراسک پارک‘‘ بنایا جاسکتا ہے۔

تاہم میکس ہوڈک نے واضح کیا تھا کہ اس منصوبے میں بننے والی مخلوقات اصل اور خالص ڈائنوسار نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق جینیاتی انجینئرنگ اور کئی سال کی افزائش نسل کے ذریعے ایسی نئی اور غیر معمولی انواع تیار کی جاسکتی ہیں جو اس دنیا میں پہلے کبھی موجود نہ رہی ہوں۔ انہوں نے اندازہ لگایا تھا کہ اس طرح کی مخلوقات تیار کرنے میں تقریباً 15 سال لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جوتا نہیں، بجلی سے چلنے والی گاڑی،منفرد عالمی ریکارڈ قائم

اصل ڈائنوسار واپس لانا ممکن کیوں نہیں؟

یہاں سائنس ایک اہم حقیقت سامنے لاتی ہے۔ اصل ڈائنوسار کا ڈی این اے کروڑوں سال پہلے ختم ہوچکا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے ناپید ہونے والے ڈائنوسارز کا مکمل جینیاتی مواد آج دستیاب نہیں۔

اب تک حاصل ہونے والا قدیم ترین ڈی این اے بھی چند ملین سال سے زیادہ پرانا نہیں، اس لیے ٹی ریکس یا کسی دوسرے حقیقی ڈائنوسار کو اسی جینیاتی شناخت کے ساتھ دوبارہ زندہ کرنا موجودہ سائنس کی پہنچ سے باہر ہے۔

لیکن ایک دلچسپ حقیقت بھی موجود ہے

اگر کبھی ڈائنوسار جیسی مخلوقات تیار کرنے کی کوشش کی گئی تو سائنس دان پرندوں اور دیگر موجودہ جانوروں کے جینیاتی مواد کو استعمال کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سائنسی اعتبار سے پرندے ڈائنوسارز کی زندہ نسل تصور کیے جاتے ہیں۔ یعنی ہمارے اردگرد موجود عام پرندے بھی قدیم ڈائنوسارز سے ارتقائی تعلق رکھتے ہیں۔اسی لیے مرغی کو دیکھ کر یہ سوچنا شاید اتنا عجیب نہیں کہ اس کے اندر کہیں نہ کہیں ایک بہت دور کا ڈائنوسار موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین میں حیران کن واقعہ، 5 سالہ بچی کے معدے سے سونے کا بار برآمد

ناپید جانوروں کو واپس لانے کی کوششیں شروع

دوسری جانب ناپید جانوروں کو دوبارہ دنیا میں لانے کی کوششیں اب صرف سائنس فکشن تک محدود نہیں رہیں۔ جینیاتی کمپنی کلوسل بائیو سائنسنے 2025 میں ڈائر وولف جیسی ناپید نسل کو واپس لانے کے منصوبے میں پیش رفت کا اعلان کیا تھا، جبکہ کمپنی مستقبل میں وولی میمتھ کی واپسی کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس تمام بحث کے باوجود حقیقی ’’جراسک پارک‘‘ ابھی سائنس فکشن ہی ہے۔ البتہ جینیاتی انجینئرنگ جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، اس نے ایک دلچسپ سوال ضرور پیدا کردیا ہے۔

اگر انسان ناپید جانوروں کو واپس لانے کی کوشش کرسکتا ہے، تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا؟

اور شاید یہی وہ سوال ہے جو ’جراسک پارک‘ کی فلموں نے ہمیں برسوں پہلے سکھایا تھا۔ ہر وہ چیز جو ہم بنا سکتے ہیں، ضروری نہیں کہ ہمیں بنانی بھی چاہیے۔

editor

Related Articles