آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے جہاں مسلم لیگ (ن) نے نمایاں برتری حاصل کرتے ہوئے خواتین کی 3 جبکہ ٹیکنوکریٹ اور علما و مشائخ کی 1, 1 نشست پر فتح حاصل کر لی ہے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی 2 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ن لیگ کے افتخار گیلانی اور علما کی نشست پر پیر مظہر نے 26, 26 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بالترتیب 12, 12 ووٹ ہی مل سکے۔
انتخابی نتائج کی تفصیلات اور عددی صورتحال
تفصیلی نتائج کے مطابق ایوان میں ٹیکنوکریٹ کی اہم نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار افتخار گیلانی نے نمایاں کامیابی حاصل کی، انہوں نے 26 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے بالمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صرف 12 ووٹ حاصل کر سکے۔
اسی طرح ‘علما و مشائخ’ کی نشست پر بھی ن لیگ کے پیر مظہر نے اپنے مدمقابل پیپلز پارٹی کے حافظ طارق کو واضح فرق سے شکست دی، پیر مظہر کو 26 جبکہ حافظ طارق کو 12 ووٹ ملے۔
خواتین کی نشستوں پر کس نے مارا معرکہ؟
خواتین کے لیے مخصوص 5 نشستوں پر مقابلہ کافی دلچسپ رہا۔ مسلم لیگ (ن) کی مریم کشمیری، سحرش قمر اور مریم ادریس نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوان کی رکنیت حاصل کی۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیاب قرار پائیں، جس سے خواتین کی نشستوں میں 3 اور 2 کا تناسب قائم ہوا۔
آزاد کشمیر کے سیاسی پس منظر کو دیکھا جائے تو مخصوص نشستوں کے یہ انتخابات ایوان کے حتمی عددی توازن کو طے کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
عام انتخابات کے انعقاد کے بعد ان نشستوں کی تقسیم سے ہی حکومت اور اپوزیشن کو اپنی اپنی پارلیمانی طاقت مضبوط کرنے کا موقع ملتا ہے۔
ماضی کی سیاسی روایت یہی رہی ہے کہ ایوان میں جو جماعت اکثر عددی برتری رکھتی ہے، وہ مخصوص نشستوں کے مرحلے میں بھی اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتی ہے۔
اس انتخابی معرکے کا سیاسی و پارلیمانی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ایوان میں اپنی عددی پیش قدمی کو مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے۔
ن لیگ کے امیدواروں کو ٹیکنوکریٹ اور علما کی نشستوں پر ملنے والے 26, 26 ووٹ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کا اتحاد ایوان میں منظم اور یکسو ہے۔
جبکہ پیپلز پارٹی کا 12, 12 ووٹ حاصل کرنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اپوزیشن اپنے طے شدہ ووٹ بینک کے ساتھ ایوان میں موجود تو ہے، لیکن وہ ن لیگ کو ہرانے کے لیے درکار مطلوبہ نمبرز کی پیش قدمی بنانے میں ناکام رہی۔ یہ کامیابی آئندہ ایوان کی کارروائی اور قانون سازی کے عمل میں ن لیگ کی موقعیت کو مزید استحکام فراہم کرے گی۔