وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے ملک میں جدید آبی زراعت، غذائی تحفظ اور برآمدات کے فروغ کے لیے سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے علاقے گھارو میں جدید ایکوا کلچر فارمز قائم کر دیے ہیں، جہاں ملائیشیا کی کمپنی ‘جی کے ایکوا’ کے اشتراک سے پاکستان کی پہلی ‘آل میل فریش واٹر جائنٹ پراون ہیچری’ فعال کر دی گئی ہے۔
اس منصوبے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مچھلی اور جھینگے کی برآمدی پیداوار بڑھا کر قومی معیشت اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔
گھارو میں قائم کیے گئے اس جدید پروجیکٹ میں ٹیلاپیا اور پینگاسیئس سمیت دیگر اعلیٰ تجارتی اقسام کی مچھلیوں کی جدید طرز پر افزائش کی جا رہی ہے۔
فارمز میں بائیو سیکیورٹی، پانی کے معیاری انتظام، آکسیجن کی مقدار اور سائنسی خوراک کی مسلسل نگہبانی کی جا رہی ہے تاکہ مچھلیوں کی بہتر اور صحت مند افزائش کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ فارم میں ‘پولی کلچر فارمنگ’ کے جدید طریقے کو اپنایا گیا ہے، جس کے تحت 1 ہی فارم میں 1 سے زیادہ اقسام کی مچھلیوں کو 1 ساتھ پال کر محدود وسائل میں زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔
گھارو کی تاریخ میں پہلی بار یہاں ایکویریم میں رکھی جانے والی آرائشی مچھلیوں کی باقاعدہ فارمنگ بھی متعارف کرائی گئی ہے۔
پاک ملائیشیا اشتراک اور مونو سیکس ٹیکنالوجی
اس منصوبے کی سب سے اہم خصوصیت ‘پاک گھارو’ اور ملائیشیا کی معروف کمپنی ‘جی کے ایکوا ایس ڈی این بی ایچ ڈی’ کے باہمی تعاون سے قائم کی جانے والی پہلی ‘آل میل فریش واٹر جائنٹ پراون ہیچری’ ہے۔
اس ہیچری میں جدید ‘مونو سیکس بریڈنگ ٹیکنالوجی’ کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے بڑے سائز اور یکساں افزائش کے حامل نر جھینگے حاصل ہوں گے جو عالمی مارکیٹ میں بہترین تجارتی قیمت دیتے ہیں۔
اس نسل کے جھینگوں کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ انہیں ٹیلاپیا اور پینگاسیئس مچھلیوں کے ساتھ بھی باآسانی پالا جا سکتا ہے، جس سے فارمرز کو الگ سے اضافی انفراسٹرکچر بنائے بغیر دگنی پیداوار اور منافع حاصل ہوگا۔
منصوبہ کیا ہے؟
پاکستان میں طویل ساحلی پٹی اور وسیع آبی وسائل موجود ہونے کے باوجود روایتی طریقوں کے باعث آبی زراعت کا شعبہ عالمی معیار سے پیچھے رہا ہے۔
ماضی میں بروقت ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور معیاری بیج (ہیچری) نہ ہونے کی وجہ سے جھینگا اور مچھلی کی برآمدات انتہائی محدود تھیں۔
وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے اس خلا کو پر کرنے اور ‘بلیو اکانومی’ سے فائدے اٹھانے کے لیے جدید سائنسی فارمنگ کو قومی ترجیح بنایا، جس کے نتیجے میں غیر ملکی تکنیکی تعاون سے اس نجی و سرکاری شراکت داری کو عملی شکل دی گئی۔
معاشی اور زرعی نقطۂ نظر سے یہ اقدام پاکستان کی بحری معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوگا۔ مونو سیکس ٹیکنالوجی اور پولی کلچر کا امتزاج ناصرف مقامی کسانوں کے اخراجات کم کرے گا بلکہ فی ہیکٹر پیداوار کو بھی 2 سے 3 گنا بڑھا دے گا۔
عالمی منڈی میں میٹھے پانی کے جھینگے اور معیاری مچھلی کی زبردست طلب موجود ہے، جس سے پاکستان کے لیے خطیر زرمبادلہ کمانے کے نئے راستے کھلیں گے۔
اگر اس ماڈل کو سندھ کے دیگر ساحلی اضلاع اور پنجاب کے ندی نالوں تک وسعت دی گئی تو یہ شعبہ ملکی معیشت میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔