عمران خان کی اپنی بہن نورین نیازی سے کیا باتیں ہوئیں؟ بڑا راز کھل گیا

عمران خان کی اپنی بہن نورین نیازی سے کیا باتیں ہوئیں؟ بڑا راز کھل گیا

وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے 18 اگست کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی بہن نورین نیازی کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق اہم دعوے کرتے ہوئے گفتگو کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی سے متعلق ماضی کے تلخ تجربات کے باعث اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے دوران سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی نورین نیازی سے ملاقات کروائی گئی۔

حذیفہ رحمان کے مطابق نورین نیازی سے ملاقات کے وقت عمران خان نائیکی کے ٹریک سوٹ اور جوگرز میں تھے اور انہوں نے اپنی بہن کو بتایا کہ وہ دو گھنٹے جم میں ورزش کرکے آئے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران نورین نیازی نے عمران خان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے عمران خان نے جواب دیا کہ ان کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں اسپتال منتقل ہونے کی ضرورت نہیں۔

حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا کہ ملاقات میں علیمہ خانم کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور عمران خان نے ان کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں بعض معاملات سے دور رہنے کا کہا عمران خان نے کہا کہ سہیل آفریدی پارٹی کو لیڈ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین تیار رہیں، آج ہنگامی بجلی کی بندش کا اعلان

معاون خصوصی کے مطابق نورین نیازی نے جواب دیا کہ سہیل آفریدی کو بڑے مسائل کا سامنا ہے جس پر عمران خان نے کہا کہ وہ سہیل آفریدی کے پیچھے کھڑے ہیں اور وہ جو کہیں گے، پارٹی کو وہی کرنا ہوگا۔

حذیفہ رحمان نے عمران خان کی صحت اور بینائی سے متعلق پی ٹی آئی کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران عمران خان کی آنکھ کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی حالانکہ پی ٹی آئی کی جانب سے سابق وزیراعظم کی آنکھ ضائع ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات میں آنکھ کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور کہا کہ نورین نیازی سے حلف لے کر بھی اس بارے میں پوچھا جاسکتا ہے۔ حذیفہ رحمان نے واضح کیا کہ ملاقات کی یہ تفصیلات انہیں پی ٹی آئی کی ایک شخصیت کے ذریعے معلوم ہوئی ہیں جسے مبینہ طور پر یہ باتیں نورین نیازی نے بتائی تھیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو عوام کے سامنے عمران خان کی صحت اور بینائی سے متعلق صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر عدالت طبی بنیادوں پر عمران خان کی ضمانت منظور کرتی ہے تو حکومت انہیں ایک منٹ میں اسپتال منتقل کردے گی۔

حذیفہ رحمان نے بتایا کہ حکومت کی نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور عدالت جو حکم دے گی، حکومت اس پر عمل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق قانونی ٹیم نے وزیراعظم کو ایک رائے دی، جس پر شہباز شریف نے واضح کیا کہ معاملات قانون کے مطابق چلائے جائیں گے۔

حذیفہ رحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے سیاسی و حکومتی کیریئر میں کبھی عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی اور حکومت بھی موجودہ معاملے میں عدالت کے فیصلے کے مطابق ہی عمل کرے گی۔

ان دعوؤں کے بعد بانی پی ٹی آئی کی صحت، ہسپتال منتقلی اور اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات سے متعلق سیاسی بحث مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ تاہم حذیفہ رحمان کی جانب سے ملاقات کی بیان کردہ تفصیلات ان کے اپنے دعووں پر مبنی ہیں، جبکہ ان دعوؤں پر بانی پی ٹی آئی یا ان کی قانونی و سیاسی ٹیم کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles