سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اپیل کنندہ کی وفات کے بعد اگر قانونی ورثا موجود ہوں تو اپیل خارج نہیں ہوگی بلکہ تمام مراعات ورثا کو منتقل ہو سکتی ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ کے 2 رکنی بینچ نے ایف بی آر کے متوفی ملازم کے کیس میں فیڈرل سروس ٹربیونل کا سابقہ حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے 3 ماہ کے اندر اپیل پر فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے شہری عبد الحق کی اپیل پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ اپیل کنندہ کے فوت ہونے کی صورت میں مراعات و فوائد اس کے قانونی ورثا کو مل سکتے ہیں۔
اس لیے کیس کو محض فریق کے انتقال کی بنا پر داخلِ دفتر کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔ سپریم کورٹ نے فیڈرل سروس ٹربیونل کو حکم دیا کہ وہ 3 ماہ کے اندر عبد الحق کی اپیل کا دوبارہ جائزہ لے کر باقاعدہ فیصلہ صادر کرے۔
1995 کی ترقی سے محرومی کا تنازع
دورانِ سماعت اپیل کنندہ کے وکیل نے کیس کے حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ عبد الحق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اپر ڈویژن کلرک کے عہدے پر تعینات تھے۔
سال 1995 میں اسی عہدے کے 15 دیگر ملازمین کو ترقی دے کر سپروائزر بنا دیا گیا، لیکن عبد الحق کو اس فہرست سے نظر انداز کر دیا گیا۔
اس حق تلفی پر انہوں نے چیف کمشنر انکم ٹیکس کو درخواست دائر کی۔ اگرچہ چیف کمشنر نے سال 2000 میں عبد الحق کو ترقی دے دی، لیکن تاخیر سے ملنے والی اس ترقی اور سینیارٹی کے احکامات کے خلاف انہوں نے فیڈرل سروس ٹربیونل سے رجوع کر لیا۔
ملازم کی وفات اور ٹربیونل کا متنازع فیصلہ
طویل قانونی جنگ کے دوران عبد الحق 13 جنوری 2019 کو وفات پا گئے۔ فیڈرل سروس ٹربیونل نے ان کے انتقال کے ٹھیک 3 دن بعد، یعنی 16 جنوری 2019 کو درخواست یہ کہہ کر داخلِ دفتر کر دی کہ اپیل کنندہ اب دنیا میں نہیں رہا۔
تاہم، اپنے والد کے جائز حق اور مراعات کے حصول کے لیے متوفی کے بیٹے نے فیڈرل سروس ٹربیونل کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا، جہاں سے اب ان کے حق میں فیصلہ سامنے آیا ہے۔
پاکستان میں سرکاری ملازمین کی ترقی، سینیارٹی اور مراعات سے جڑے تنازعات اکثر دہائیوں تک عدالتوں میں زیرِ التوا رہتے ہیں۔
عبد الحق نے بھی 1995 کی حق تلفی کے خلاف تقریباً 24 سال قانونی جدوجہد کی لیکن افسوس کہ وہ اپنی زندگی میں حتمی انصاف نہ دیکھ سکے۔
نچلی عدالتوں اور ٹربیونلز میں یہ روایت عام رہی ہے کہ اپیل کنندہ کے انتقال کے بعد کیس کو ختم سمجھ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متوفی کے ورثا مالی فوائد، پینشنری مراعات اور سابقہ بقایا جات سے محروم ہو جاتے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے قانونی و سماجی اثرات
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سروس قوانین کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس حکم نے یہ اصول طے کر دیا ہے کہ ملازم کی وفات کے ساتھ ہی اس کے سروس کے حقوق یا قانونی دعوے ختم نہیں ہوتے۔
اگر ورثا موجود ہیں تو وہ اس کیس کی پیروی کا پورا حق رکھتے ہیں، کیونکہ اپیل کا نتیجہ متوفی کی سینیارٹی، پینشن اور دیگر تمام مالی مراعات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کا یہ فیصلہ ناصرف اداروں کو ملازمین کے ساتھ ناانصافی سے روکے گا بلکہ سوگوار خاندانوں کو ان کے آبا و اجداد کے محنتانہ حقوق دلوانے کا ضامن بھی بنے گا۔