چینی صدر شی جن پنگ نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کے بحران کے سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے لیے ’دو ریاستی حل‘ اور 4 نکاتی اصول پیش کر دیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ اور مغربی کنارے پر حکمرانی کا حق صرف فلسطینیوں کو حاصل ہے اور خطے کی علاقائی خود مختاری کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم 18 اگست سے چین کے سرکاری دورے پر ہیں، جو 1999 میں تخت نشین ہونے کے بعد ان کا چین کا 9 واں دورہ ہے۔
بیجنگ میں ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی تفصیلی ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق، شی جن پنگ نے کہا کہ چین خطے میں اردن کے انوکھے اور انتہائی اہم کردار کی بھرپور قدر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ اردن اس وقت ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد سے شدید سیاسی اور عسکری بحران کی لپیٹ میں ہے۔
مسئلہ فلسطین کے حل کے 4 بنیادی اصول
اس اہم ملاقات کے دوران چینی صدر نے فلسطین کا دہائیوں پرانا مسئلہ حل کرنے کے لیے 4 واضح اصول وضع کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا اصول یہ ہے کہ فریقین کسی بھی عسکری تصادم کے بجائے سیاسی سمجھوتے کو ترجیح دیں اور اس مسئلے کا حتمی اور دیرپا ‘2 ریاستی حل’ نکالا جائے۔
دوسرا اصول واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے اور جنگ کے بعد کے غزہ میں رہنے والے فلسطینی عوام پر حکومت کرنے کا حق صرف اور صرف فلسطینیوں کا ہے۔
تیسرے اصول کے تحت ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کارروائی میں انسانی ہمدردی کے اصولوں کو مقدم رکھا جائے اور جنگ کی صورت میں نہتے شہریوں کی حفاظت کا ہر ممکن انتظام کیا جائے۔ جبکہ چوتھا اور آخری اصول یہ ہے کہ اس پورے حل کے عمل میں انصاف اور برابری کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
خودمختاری کا احترام اور دو طرفہ تجارتی معاہدے
چینی صدر نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ چین ہمیشہ سے خطے میں جامع جنگ بندی کا حامی رہا ہے اور تنازعات کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بیجنگ یہ سمجھتا ہے کہ اردن سمیت خطے کے تمام ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران سفارت کاری، تجارت اور سپلائی چین کی بہتری سے متعلق متعدد اہم معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔
اس موقع پر فریقین کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں بین الاقوامی تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے آبنائے ہرمز میں معمول کی نیوی گیشن بحال کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔
چینی قیادت اور اردن کے فرماں روا کے درمیان یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا کی روایتی حلیف ریاست اردن، واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور غیر اعلانیہ جنگ کے بیچوں بیچ پھنسی ہوئی ہے۔
اسرائیلی حملوں نے پورے خطے کی سیکیورٹی کو داؤ پر لگا دیا
28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں نے پورے خطے کی سیکیورٹی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایسے میں چین مشرق وسطیٰ میں اپنے وسیع تر معاشی مفادات اور تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے خطے کے ممالک پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور انہیں جنگ کے شعلوں سے نکال کر مذاکرات کی میز پر لانے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔
موجودہ حالات، اس ملاقات اور چینی صدر کے دو ٹوک موقف سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ چین اب مشرق وسطیٰ میں محض ایک خاموش معاشی شراکت دار نہیں رہا، بلکہ وہ خطے کے سیاسی اور جغرافیائی معاملات میں ایک متحرک اور طاقتور ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط اور اندھی حمایت کے باعث عرب ممالک میں پیدا ہونے والے خلا کو بیجنگ اپنی سفارتی مہارت اور تزویراتی نرمی سے تیزی سے پُر کر رہا ہے۔
مسئلہ فلسطین کے حوالے سے چینی صدر کا پیش کردہ 4 نکاتی فارمولا دراصل عالمی برادری اور مغربی طاقتوں کے لیے ایک واضح اور سخت پیغام ہے کہ طاقت کا استعمال اور اندھا دھند بمباری کسی صورت امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔
‘2 ریاستی حل’ پر زور دے کر اور فلسطینیوں کی اپنی سرزمین پر خود مختاری کی غیر مبہم حمایت کر کے چین نے مشرق وسطیٰ کے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی ایک انتہائی کامیاب سفارتی چال چلی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بحالی کا مشترکہ مطالبہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ چین کی اولین ترجیح عالمی سپلائی چین کو محفوظ رکھنا ہے، جس کے لیے وہ عرب ممالک کو اعتماد میں لے کر تنازعات کو سفارتی دباؤ کے ذریعے حل کرنے کی طویل مدتی پالیسی پر گامزن ہے۔