برطانیہ میں موسم گرما کی پانچویں ہیٹ ویو پوری شدت سے جاری ہے جس کے باعث شدید گرمی سے لندن کے بس ڈرائیور بھی بے حال ہوگئے ہیں۔ شدید گرمی کے خلاف لندن میں بس ڈرائیوروں نے 4 روزہ ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق لندن میں شدید گرمی کے باعث شمالی لندن اور ایسیکس میں تقریباً ڈیڑھ ہزار بس ڈرائیور ہڑتال کریں گے۔ بس ڈرائیوروں کی ہڑتال 25 اگست صبح 4 بجے شروع ہوگی اور 28 اگست صبح 4 بج کر 30 منٹ پر ختم ہوگی۔
بس ڈرائیوروں نے شدید گرمی میں کام کرنے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے گرمی سے بچاؤ کے لیے بسوں میں مکمل ایئر کنڈیشننگ نظام نصب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :حکومت اور ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات کامیاب، ہڑتال 40 دن کیلئے موخر
بس ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران بس کے کیبن کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں کام کرنا نہ صرف انتہائی مشکل ہے بلکہ ہیٹ اسٹروک اور حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ڈرائیوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں شدید گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے بسوں میں مکمل ایئر کنڈیشننگ نظام نصب کیا جائے تاکہ دوران ڈیوٹی انہیں گرمی کی شدت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب یونائیٹ کے جنرل سیکریٹری شرون گراہم نے بس ڈرائیوروں کی صورتحال کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ یونائیٹ کے ارکان نے آریوا کی جانب سے پیش کردہ پیشکش کو مسترد کردیا اور اسے ناکافی قرار دیا۔
یونائیٹ اراکین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق بس ڈرائیور اکتوبر کے وسط تک مختلف مواقع پر مجموعی طور پر 11 روز ہڑتال کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے مذاکرات کے باعث بس ڈرائیوروں کی ہڑتال مؤخر کردی گئی تھی۔ اس دوران آریوا نے ٹرانسپورٹ فار لندن کے ساتھ مل کر ہڑتال کے دوران سفری سہولیات یقینی بنانے کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ فار لندن نے ہڑتال کے دوران مسافروں کو ممکنہ سفری مشکلات سے خبردار کردیا ہے۔ ٹرانسپورٹ فار لندن کے مطابق بس نیٹ ورک میں خلل کے باعث مسافروں کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
بس ڈرائیوروں کی جانب سے شدید گرمی میں کام کرنے کے حالات پر تحفظات اور مکمل ایئر کنڈیشننگ نظام کے مطالبے کے بعد لندن میں ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہڑتال کے نتیجے میں شمالی لندن اور ایسیکس کے علاقوں میں بس سروس متاثر ہونے کا امکان ہے۔