مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں خطے سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دباؤ میں آگئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد فی بیرل قیمت 87.55 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کسی بھی بڑی پیش رفت کے نتیجے میں تیل کی فراہمی کے نظام پر اثر پڑ سکتا ہے جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح تک آ گئی تھی تاہم گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 102 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔
اس سے قبل بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.39 فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 86.94 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا انحصار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، پیداوار اور سپلائی کے نظام پر ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔