پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے، جبکہ تحقیقات کے اگلے مرحلے میں واقعے سے متعلق اہم شواہد، ریکارڈ اور متعلقہ ذمہ داران سے معلومات حاصل کیے جانے کا امکان ہے۔
سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اترا ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد شامل ہیں۔ کمیٹی کو واقعے کی فوری وجوہات، مکمل ٹائم لائن، ہنگامی ردعمل اور ریسکیو آپریشن سمیت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آج کی کارروائی میں کمیٹی کے سامنے پمز انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے واقعے سے متعلق اہم ریکارڈ اور شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں۔ بالخصوص سی سی ٹی وی فوٹیج، فائر سیفٹی انتظامات کا ریکارڈ، ایمرجنسی رسپانس کی تفصیلات، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کی تفصیلات، نرسری کے دروازوں اور ایمرجنسی راستوں کی صورتحال سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی یہ بھی جانچ رہی ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں کتنے بچے موجود تھے عملے کی تعداد کتنی تھی پہلی اطلاع کس وقت دی گئی ہسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر کیا اقدامات کیے اور ریسکیو و فائر بریگیڈ کو کب اطلاع دی گئی۔
تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہوگا کہ نومولود بچوں کے انخلا کے لیے موجود ایمرجنسی ایس او پیز پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔ کمیٹی بالخصوص یہ دیکھے گی کہ ہائی رسک نومولود بچوں کو ہنگامی صورتحال میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا طریقہ کار کیا تھا اور واقعے کے وقت اس پر کس حد تک عمل کیا گیا۔
اسی طرح پمز کے فائر سیفٹی انفراسٹرکچر اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ فائر سیفٹی کے آلات فعال تھے یا نہیں ایمرجنسی راستے قابل استعمال تھے یا نہیں، فائر الارم اور دیگر حفاظتی نظام کی حالت کیا تھی اور ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ مینٹی نینس اور انسپیکشن کب ہوئی تھی۔
تحقیقاتی کمیٹی کو کسی بھی فرد کی غفلت یا کوتاہی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس لیے پمز انتظامیہ، متعلقہ طبی عملے، سیکیورٹی، مینٹی نینس اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ذمہ دار افسران سے واقعے کے حوالے سے معلومات اور وضاحتیں طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
کمیٹی یہ بھی جائزہ لے گی کہ آگ لگنے کے بعد ہسپتال کے عملے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 سمیت متعلقہ اداروں نے کتنی تیزی سے ردعمل دیا اور امدادی کارروائی کس انداز میں انجام دی گئی۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بھی ایک الگ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی ہے، جسے واقعے کی وجوہات، فائر سیفٹی انتظامات اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لے کر 24 گھنٹے میں رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو 48 گھنٹے میں عبوری رپورٹ پیش کرنا ہے جس میں فوری نوعیت کی سفارشات شامل ہوں گی جبکہ پانچ دن میں جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔ جامع رپورٹ میں تحقیقات کے مکمل نتائج ذمہ داری کے تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل سفارشات شامل ہوں گی۔
پمز سانحے کی تحقیقات میں اب سب سے اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ دستیاب شواہد اور متعلقہ افراد کے بیانات کی روشنی میں واقعے کی منٹ بہ منٹ ٹائم لائن مرتب کی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ آگ لگنے سے لے کر ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک کس ادارے اور کس سطح پر کیا اقدامات کیے گئے۔
نومولود بچوں کی ہلاکت کے اس المناک واقعے کے بعد لواحقین کی جانب سے بھی ایمرجنسی رسپانس، نرسری کے دروازوں، فائر سیفٹی اور ہسپتال کی مینٹی نینس سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اب تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی سے یہ طے ہونا ہے کہ ان سوالات میں سے کون سے نکات حقائق اور ریکارڈ سے ثابت ہوتے ہیں اور کہاں انتظامی یا عملی غفلت سامنے آتی ہے۔