خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں 15 روز قبل گھر کے باہر سے لاپتا ہونے والی 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے ساتھ ہونے والی شدید زیادتی اور دردناک قتل کی باضابطہ تصدیق ہو گئی ہے۔
ایم ایس ڈاکٹر منور کی سربراہی میں قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کے مطابق معصوم بچی زیادتی کے دوران شدید صدمے اور بے تحاشا خون بہہ جانے کی وجہ سے دم توڑ گئی تھی، جس کے بعد ملزمان نے اس کی لاش کو کنویں میں پھینک دیا۔
پولیس نے واقعے میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن میں سے 2 جیل میں اور 1 پولیس تحویل میں موجود ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے دل دہلا دینے والے حقائق
ہری پور میں 5 سالہ معصوم آیت نور کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے۔
اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر منور کی سربراہی میں تشکیل دیے گئے 8 رکنی میڈیکل بورڈ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ نے اس درندگی پر سے پردہ اٹھایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معصوم بچی کے ساتھ بے رحمانہ زیادتی کی گئی اور وہ اس بربریت کے دوران ہی شدید صدمے (شاک) اور بے تحاشا خون بہہ جانے کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ طبی رپورٹ میں اس بات کی بھی واضح تصدیق کی گئی ہے کہ بچی کو زندہ نہیں بلکہ مردہ حالت میں کنویں میں پھینکا گیا تھا۔
کھیلتے ہوئے لاپتا ہونے سے لاش ملنے تک کا دردناک واقعہ
اس دل خراش واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور سے تعلق رکھنے والی 5 سالہ آیت نور اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک پراسرار طور پر لاپتا ہو گئی تھی۔
لواحقین کی جانب سے مسلسل تلاش کے باوجود جب بچی کا کچھ پتہ نہ چلا تو پولیس کو اطلاع دی گئی۔ بچی کی تلاش کا سلسلہ جاری تھا کہ ٹھیک 15 روز بعد یونیورسٹی روڈ پر واقع ایک ویئر ہاؤس کے قریب سنسان کنویں سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔
لاش ملنے پر پورے علاقے میں کوہرام مچ گیا اور پولیس نے فوری طور پر لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کیا۔
پولیس کی کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری
پولیس کی جانب سے معصوم ‘آیت نور’ کیس میں فوری پیش رفت کرتے ہوئے تحریری ثبوتوں اور تفتیش کی روشنی میں 3 ملزمان کو قانون کے شکنجے میں کس لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے معصوم بچی کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور جب وہ دم توڑ گئی تو جرم کو چھپانے کی نیت سے اس کی لاش کو ویئر ہاؤس کے کنویں میں پھینک دیا۔
فی الوقت کیس کے 2 ملزمان عدالتی تحویل میں جیل بھیجے جا چکے ہیں جبکہ 1 ملزم سے مزید تفتیش کے لیے اسے پولیس تحویل میں رکھا گیا ہے۔
معصوم بچیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے سنسنی خیز جرائم
پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا میں معصوم بچوں اور بچیوں کے خلاف جنسی درندگی اور قتل کے واقعات ایک ناسور کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
گھروں کے باہر کھیلتے ہوئے معصوم بچوں کا اغوا ہونا اور پھر دن کے اجالے میں ان کی مسخ شدہ یا بے جان لاشوں کا ملنا معاشرتی تنزلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آیت نور کا واقعہ محض ایک فرد یا ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے اور سیکیورٹی و عدالتی نظام کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو معصوم بچوں کو محفوظ ماحول دینے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
قانون کی گرفت اور سخت ترین سزاؤں کی اشد ضرورت
آیت نور کیس میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں سفاک اور درندہ صفت عناصر کے اندر سے قانون اور سزا کا خوف ختم ہو چکا ہے۔
5 سال کی معصوم بچی پر اس قدر ظلم و بربریت ڈھانا اور پھر لاش کو کنویں میں پھینک دینا انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہے۔ اگرچہ پولیس نے 3 ملزمان کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ہے، لیکن اصل امتحان عدالتوں میں اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
ہمارے نظامِ انصاف کی سب سے بڑی کمزوری تفتیش میں تاخیر اور ملزمان کو سخت سزائیں ملنے کا طویل عمل ہے۔ اگر اس کیس کو فاسٹ ٹریک پر چلا کر 8 رکنی میڈیکل بورڈ کی سائنسی اور طبی رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کو سزائے موت یا عبرت ناک سزا نہ دی گئی تو ایسے درندوں کی حوصلہ افزائی ہوتی رہے گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ محض بیانات اور انکوائریز کے بجائے معصوم بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے تاکہ کسی بھی دوسری معصوم بچی کو اس قسم کی درندگی کا نشانہ نہ بننا پڑے۔