خیبر پختونخوا کے سینئر تحقیقاتی صحافی عقیل یوسفزئی نے خیبر کرونیکلز کے پوڈ کاسٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضل الرحمان نے ملا ہیبت اللہ سے ٹیلیفونک بات چیت کے دوران انہیں کہا تھا کہ انہیں پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات عزیز ہیں اور وہ پاکستان کے مفادات کے مقابلے میں افغانستان کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
عقیل یوسفزئی نے انکشاف کیا کہ فضل الرحمان نے بات چیت میں ہیبت اللہ کویہ کہا کہ انہیں پاکستان نہیں بلکہ افغانستان کے مفادات زیادہ عزیز ہیں اور وہ افغانستان کے مفادات کو پاکستان پر ترجیح دیتے ہیں۔
عقیل یوسفزئی نےفضل الرحمان کے ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان کے حوالے سے حالیہ بیانات پر بھی سوالات اٹھائےہیں انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کے موجودہ بیانیے کو صرف پاکستانی سیاست کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں بلکہ افغانستان کے ساتھ ان کے سیاسی، مذہبی اور شخصی روابط کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
پاکستانی مفادات کیخلاف بات قبول نہیں
عقیل یوسفزئی نے مولانا فضل الرحمان کے سیاسی سفر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا طرز سیاست طویل عرصے تک اقتدار کے قریب رہنے والا رہا ہے اور وہ مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ بنتے رہے ہیں تاہم افغانستان کے مفادات کو پاکستان پر ترجیح دینا کسی صورت پاکستان کے اداروں اور نہ ہی عوام کے لیے قابل قبول ہے ۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو کئی علاقوں میں سیاسی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی پوزیشن کو نقصان پہنچا ہے۔
فضل الرحمان کے مفادات
عقیل یوسفزئی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف طویل عرصے تک کھڑی رہیں، اب ان کے درمیان قربت کی بنیادی وجہ کیا ہے اور اس تبدیلی کے پیچھے سیاسی مفادات کیا ہیں،عقیل یوسفزئی نے گزشتہ دنوں طالبان حکومت کے قیام کے پانچ سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کا بھی ذکر کیا
انہوں نے کہا کہ تقریب میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان نے اہم تقاریر کیں اور ان کے بیانات میں افغانستان کا معاملہ نمایاں رہا،عقیل یوسفزئی نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ان تقاریر سے ایسا محسوس ہوا جیسے مقررین پاکستان کے بجائے افغانستان کے سیاسی معاملات پر بات کر رہے ہوں اور یہ پاکستان نہیں بلکہ افغانستان کے سیاست دان ہوں۔
جے یو آئی کے سابق رکن ٹی ٹی پی سربراہ
عقیل یوسفزئی نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ریاستی اداروں کا مؤقف واضح ہے کہ ملکی مفادات اولین حیثیت رکھتے ہیں اور پاکستان کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے تین سربراہ سابقہ ادوار میں جے یو آئی کے کارکن رہے ہیں،اس سے ان کے سیاسی مفادات واضح ہوتے ہیں۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث عناصر کے حوالے سے کسی بھی قسم کی حمایت یا نرمی ناقابل قبول ہے۔
ٹی ٹی پی بارے فضل الرحمان کا نرم رویہ
عقیل یوسفزئی نے ٹی ٹی پی کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی سیاست پر بھی سخت سوالات اٹھائےانہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جانیں گنوا چکے ہیں، اس لیے ان عناصر کے بارے میں کسی بھی قسم کا نرم رویہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
عقیل یوسفزئی کے اس انکشاف کے بعد بحث کا مرکز یہ بن گیا ہے کہ پاکستانی سیاست میں افغانستان کے حوالے سے مؤقف اختیار کرتے وقت قومی مفادات کو کس حد تک مقدم رکھا جارہا ہے؟
پاکستان میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن جب معاملہ ملکی سلامتی، دہشت گردی اور قومی مفادات کا ہو تو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر پاکستان کے مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔