ہری پور: آیت نور کے المناک واقعے پر بابر نواز کا خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی قیادت پر سخت تنقید

ہری پور: آیت نور کے المناک واقعے پر بابر نواز کا خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی قیادت پر سخت تنقید

خیبر پختونخوا میں آیت نور کے المناک واقعے پر ہری پور سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی رہنما بابر نواز نے پی ٹی آئی قیادت اور صوبائی حکومت کی بے حسی پر سخت تنقید کی ہے۔ آذاد ڈیجیٹل سے گفتگو میں بابر نواز نے کہا کہ واقعے کے بعد کئی روز تک کوئی مؤثر آواز سامنے نہیں آئی، جبکہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے بعض اہم عہدیدار، جو ان کے بقول ووٹ لینے کے وقت عوام کے درمیان آتے ہیں، آیت نور کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس افسوس ناک واقعے کے خلاف ہری پور کے نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور دیگر سیاسی لوگوں نے آواز اٹھائی، تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی کے عہدیداروں اور قیادت کی جانب سے وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

’’واقعے کو 15، 16 دن گزر گئے، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا‘‘

بابر نواز نے گفتگو کے دوران کہا کہ آیت نور کے افسوس ناک واقعے کے بعد تقریباً 15، 16 دن گزر گئے لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ ان کے مطابق ہری پور کے چند نوجوانوں، سماجی کام کرنے والے افراد اور سیاست دانوں نے واقعے پر آواز اٹھائی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید عام پی ٹی آئی کارکنوں پر نہیں بلکہ پارٹی کے عہدیداروں اور قیادت پر ہے۔

بابر نواز کے مطابق ’’میں اس قیادت کی بات کر رہا ہوں جو ووٹ کے ٹائم تو آئے‘‘، تاہم واقعے کے بعد مبینہ طور پر اہم عہدیدار متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کی گرفت کمزور، لکی مروت اور بنوں میں ’پولیس امن کمیٹی‘ کے خلاف جرائم اور غنڈہ گردی کے سنگین الزامات سامنے آگئے

’’تین اہم عہدوں پر موجود افراد جنازے تک نہیں آئے‘‘

سماجی کارکن نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت میں اس وقت بعض افراد اہم عہدوں پر موجود ہیں، جن میں ایک سینئر وزیر، ایک وزیر اعلیٰ کے مشیر اور ایک پارلیمانی لیڈر شامل ہیں۔

بابر نواز کا کہنا تھا کہ ان تینوں کے پاس اچھی پوسٹیں ہیں، لیکن ان کے مطابق ان میں سے کوئی بھی آیت نور کے جنازے میں شرکت کے لیے نہیں آیا۔

انہوں نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی قیادت عوام سے ووٹ لینے کے وقت ان کے پاس پہنچ سکتی ہے تو ایک ایسے المناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہونا بھی اس کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

آیت نور کے لاپتا ہونے کی اطلاع کیسے دی گئی؟

بابر نواز نے آیت نور کے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے سے ایک دو روز قبل بچی کے لاپتا ہونے کی درخواست دی گئی تھی، جبکہ 10 تاریخ کو اس حوالے سے ایف آئی آر درج ہوئی۔

ان کے مطابق آیت نور کے والد ایک بیکری میں کام کرتے ہیں اور تقریباً 600 روپے یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ بابر نواز نے متاثرہ خاندان کو انتہائی غریب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا گھر بھی ایک چھوٹے سے کمرے پر مشتمل ہے۔

ان کے مطابق یہی خاندانی پس منظر اس معاملے کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتا ہے، کیونکہ ایک غریب خاندان کی بچی کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے نے پورے علاقے میں تشویش پیدا کی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 49 دہشت گرد ہلاک

’’والد کے بلانے کا بہانہ بنا کر بچی کو باہر لے جایا گیا‘‘

بابر نواز کے مطابق ایک لڑکا، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق نوشہرہ یا مردان کی طرف سے تھا اور جو کباڑ کا کام کرتا تھا، مبینہ طور پر آیت نور کو یہ کہہ کر گھر سے باہر لے گیا کہ اس کے والد اسے بلا رہے ہیں۔

ان کے مطابق بچی کو باہر لے جانے کے بعد اسے آگے مبینہ طور پر تین چار لڑکوں کے حوالے کر دیا گیا۔

بابر نواز نے الزام عائد کیا کہ ان ظالموں نے اس کے ساتھ ریپ کیا اور میڈیکل رپورٹ یہ کہتی ہے کہ اس کی دونوں رانیں بھی توڑ دیں دورانِ ریپ اور وہ شاک اور بلیڈنگ اور تکلیف کی وجہ سے وفات پا گئی۔

ان کے مطابق آیت نور کی موت کے بعد ملزمان نے طور پر لاش کو وہاں سے اٹھایا اور ایک کنویں میں پھینک دیا اور لاش کے اوپر لکڑیاں بھی ڈال دی گئیں۔

واقعے پر سیاسی اور سماجی ردعمل کا مطالبہ

بابر نواز نے اپنی گفتگو میں خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے طرزعمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہری پور کے نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور دیگر سیاست دانوں نے آیت نور کے واقعے پر آواز اٹھائی، تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے مطلوبہ سطح پر آواز نہیں اٹھائی گئی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی نمائندوں اور حکومتی عہدیداروں سے صرف سیاسی معاملات میں نہیں بلکہ مشکل اور افسوس ناک حالات میں بھی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔

Related Articles