امریکا نے ‘آبنائے ہرمز’ کے بیشتر حصے پر کنٹرول اور 200 بحری سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ کیا ہے جسے ایرانی پاسداران انقلاب نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان، عمان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے دوران عالمی تجارت کی اہم ترین آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ ایک بار پھر خبروں کا مرکز بن گئی ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے اس اہم سمندری راستے پر کنٹرول کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جس نے عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
‘امریکا’ کا تہلکہ خیز دعویٰ اور سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ‘آبنائے ہرمز’ میں ‘ایران’ کا اثر و رسوخ نمایاں حد تک کم کر دیا ہے اور اب امریکی فوج اس گزرگاہ کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول بڑھا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے امریکا کو پہلے اسلام آباد معاہدے پر عمل کرنا ہو گا ، باقر قالیباف
حکام کے مطابق، بحری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بڑا آپریشن کیا گیا ہے جس کے دوران ‘ایران’ کی جانب سے بچھائی گئی 200 سے زیادہ بحری بارودی سرنگوں کو کامیابی سے ہٹا دیا گیا ہے۔
تیل کی ترسیل کے اہداف اور ستمبر کا منصوبہ
اس اہم تجارتی روٹ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی حکام نے بتایا کہ ‘آبنائے ہرمز’ کے جنوبی راستے سے ہر رات 20 سے 30 آئل ٹینکرز بحفاظت گزر رہے ہیں۔
اس وقت روزانہ 90 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل تیل کی ترسیل بلاتعطل جاری ہے۔ مزید برآں، ‘امریکا’ نے رواں سال ستمبر تک اس گزرگاہ سے ہر رات 50 بحری جہازوں کی آمدورفت مکمل بحال کرنے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق، جنگ سے قبل کی ایرانی تیل برآمدات کا 60 سے 70 فیصد حصہ بحال کرنا بھی ان کے اہم اہداف میں شامل ہے۔
پاسداران انقلاب کا سخت ردعمل
دوسری جانب امریکی دعووں کے فوراً بعد ‘ایران’ کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی فوج کے ‘آبنائے ہرمز’ کھلوانے اور کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور ایرانی بحریہ کے زیر انتظام علاقوں پر مکمل اور بلا شرکت غیرے ‘ایران’ کا ہی کنٹرول ہے۔
سفارتی سرگرمیاں، ‘ڈونلڈ ٹرمپ’ کا مؤقف اور ثالثی کی کوششیں
کشیدگی کے اس ماحول میں سفارتی محاذ پر بھی زبردست سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایک موقر امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ‘ایران’ اب ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔
تاہم سابق امریکی صدر ‘ڈونلڈ ٹرمپ’ ان مذاکرات کے حوالے سے فی الحال گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا واضح کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کے مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں ہے۔
اس تعطل کو توڑنے کے لیے خطے کے اہم ممالک متحرک ہو چکے ہیں۔ ‘پاکستان’، ‘عمان’ اور ‘قطر’ کی جانب سے ‘ایران’ اور ‘امریکا’ کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی نمائندہ خصوصی ‘اسٹیو وٹکوف’ ان ثالث ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
‘ایران’ اور ‘عمان’ کے درمیان خصوصی بات چیت
ان کثیر الفریقی کوششوں کے ساتھ ساتھ، ایران اور عمان کے درمیان بھی ‘آبنائے ہرمز’ کی صورتحال پر براہ راست اور انتہائی اہم بات چیت جاری ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں ایک عارضی بحری راہداری کے قیام، باقی ماندہ بارودی سرنگیں صاف کرنے اور اس حساس آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
‘آبنائے ہرمز’ دنیا کی اہم ترین اور حساس ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی کھپت کے تیل کا ایک بہت بڑا حصہ گزرتا ہے۔
‘امریکا’ اور ‘ایران’ کے درمیان جب بھی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، اس گزرگاہ کی بندش کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، جس سے براہ راست عالمی معیشت اور تیل کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو جلد امریکہ کا حصہ قرار دینے کی دھمکی
حالیہ تنازعات کے دوران بھی جنگی صورتحال کے پیش نظر اس سمندری راستے پر بارودی سرنگیں بچھانے اور فوجی جہازوں کی تعیناتی کے باعث بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے، جس کے بعد علاقائی قوتوں کو امن کے لیے میدان میں آنا پڑا۔
اس پوری صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محض فوجی کنٹرول کی جنگ نہیں، بلکہ ایک منظم نفسیاتی اور معلوماتی جنگ (انفارمیشن وار فیئر) معلوم ہوتی ہے۔
‘امریکا’ کا یہ دعویٰ کہ اس نے بحری سرنگیں ہٹا کر گزرگاہ کو محفوظ بنا لیا ہے، دراصل عالمی تیل منڈیوں کو تسلی دینے اور اپنے اتحادیوں کا اعتماد بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔
دوسری جانب، ‘ایران’ کا فوری انکاری بیان اس کی اسٹریٹجک مجبوری ہے کیونکہ وہ کسی بھی صورت خطے میں اپنا دفاعی تاثر کمزور نہیں ہونے دے سکتا۔
سفارتی محاذ پر پاکستان، عمان اور قطر کی مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک کسی بھی نئے تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز سے تیل کی عالمی ترسیل ،امریکی وزیر توانائی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا
سابق امریکی صدر ‘ڈونلڈ ٹرمپ’ کا مذاکرات میں جلدی نہ دکھانا دراصل دباؤ بڑھانے کی ایک روایتی سفارتی حکمت عملی ہے۔ ‘عمان’ کا کردار اس میں کلیدی ہے، کیونکہ وہ ماضی میں بھی ‘امریکا’ اور ‘ایران’ کے درمیان کامیاب خاموش سفارت کاری کر چکا ہے۔
اگر عمان اور ایران کے درمیان مشترکہ راہداری پر اتفاق ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہوگی۔


