پاکستان کے توانائی سیکٹر میں ایک تاریخی پیش رفت کے تحت 3.5 ارب ڈالر مالیت کے مجوزہ ’فالکن آئلز ریفائنری اینڈ اسٹوریج کمپلیکس‘ نے انتہائی اہم ادارہ جاتی مرحلہ عبور کر لیا ہے۔
‘دھابیجی’ میں قائم ہونے والے اس میگا پراجیکٹ کی ‘سی پیک’ سیکرٹریٹ نے باضابطہ توثیق کرتے ہوئے اسے ‘بورڈ آف انویسٹمنٹ’ کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ ملکی تاریخ میں نجی شعبے کی سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر معاشی دبائو ، امریکہ نے آئل ریفائنری ، درجنوں شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
پاکستان میں معاشی بحالی اور توانائی کے شعبے کو خود کفیل بنانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ضلع ‘ٹھٹھہ’ کے اسٹریٹجک علاقے ‘دھابیجی’ میں قائم کیے جانے والے 3.5 ارب ڈالر کے ‘فالکن آئلز ریفائنری اینڈ اسٹوریج کمپلیکس’ نے اپنے قیام کی جانب ایک کٹھن اور اہم ترین ادارہ جاتی رکاوٹ کامیابی سے عبور کر لی ہے۔ اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جا رہا ہے۔
‘سی پیک’ سیکرٹریٹ کی جانب سے باضابطہ توثیق
اس شاندار منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ‘چین پاکستان اقتصادی راہداری’ (‘سی پیک’) سیکرٹریٹ نے اس کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام نے اس ضمن میں باضابطہ طور پر ‘بورڈ آف انویسٹمنٹ’ (‘بی او آئی’) کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے۔
اس مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ اس اسٹریٹجک منصوبے کو صنعتی تعاون کے حوالے سے قائم ‘جوائنٹ ورکنگ گروپ’ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے تاکہ اس کی حتمی منظوری اور عملی کام کا آغاز جلد از جلد کیا جا سکے۔
نجی شعبے کی تاریخ ساز سرمایہ کاری کا آغاز
اقتصادی ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت حالیہ برسوں میں ‘پاکستان’ کے اندر نجی شعبے کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی اور اہم صنعتی سرمایہ کاری کی نوید ہے۔
اس میگا پراجیکٹ کو پاکستان کے پٹرولیم اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس میں مقامی و غیر ملکی نجی سرمایہ کاری لانے کی انتھک کوششوں میں ایک غیر معمولی بریک تھرو تصور کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے سے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی جدید ترین صلاحیت میسر آئے گی بلکہ مقامی سطح پر تیل صاف کرنے کی استعداد بھی کئی گنا بڑھ جائے گی۔
پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے شدید بحران اور غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر سال اربوں ڈالر کا تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل درآمد کیا جاتا ہے، جس سے قومی خزانے پر ناقابلِ برداشت بوجھ پڑتا ہے۔
اس وقت ملک میں موجود زیادہ تر ریفائنریز پرانی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں اور ان کی پیداواری استعداد ملکی طلب سے بہت کم ہے۔
‘سی پیک’ کے دوسرے مرحلے میں صنعتی اور کاروباری تعاون کو فروغ دینے پر خاص زور دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں، ضلع ‘ٹھٹھہ’ میں واقع ‘دھابیجی’ کا علاقہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور ‘کراچی’ کی بندرگاہوں سے قربت کے باعث اس قسم کے بڑے صنعتی منصوبوں کے لیے انتہائی موزوں ترین مقام قرار پایا ہے۔
‘فالکن آئلز ریفائنری’ کے منصوبے پر اگر گہرائی سے نظر ڈالی جائے تو یہ محض ایک صنعتی کارخانہ نہیں، بلکہ ‘پاکستان’ کی معاشی تقدیر بدلنے اور توانائی کے شعبے میں خود مختاری حاصل کرنے کا ایک سنہرا موقع ہے۔
3.5 ارب ڈالر کی یہ خطیر سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار اب بھی ‘پاکستان’ کے توانائی کے شعبے میں بے پناہ دلچسپی رکھتے ہیں، بس انہیں ایک سازگار حکومتی ماحول درکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکہ کا ایران کی معیشت کے گرد گھیرا تنگ ،مزیدپابندیاں عائد


