وزارتِ توانائی نے آر ایل این جی کارگو بروقت نہ پہنچنے کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی قلت کے باعث رات کے اوقات میں عارضی لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔
وزارتِ توانائی کے ترجمان کے مطابق آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 3600 میگاواٹ بجلی پیدا نہیں ہو رہی، جبکہ منگلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار میں بھی 195 میگاواٹ کمی ہوئی ہے، جس کے باعث بجلی کی فراہمی پر اضافی دباؤ ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق رات کے پیک اوقات میں ڈیڑھ سے 3 گھنٹے تک عارضی لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔ بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس بھی فعال کیے گئے ہیں۔
ترجمان وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی کارگو پہنچتے ہی عارضی لوڈ مینجمنٹ میں نمایاں کمی لائی جائے گی۔ پاور ڈویژن بھی بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے آر ایل این جی کارگو کی آمد کا انتظار کر رہا ہے۔
وزارتِ توانائی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ رات کے اوقات میں بجلی کا استعمال اعتدال میں رکھیں۔
ترجمان کے مطابق دن کے اوقات میں ملک بھر میں کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی جا رہی، تاہم بجلی کے نقصانات والے علاقوں میں شیڈول کے مطابق لوڈ مینجمنٹ جاری ہے۔
وزارتِ توانائی نے آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث صارفین کو درپیش مشکلات پر معذرت بھی کی ہے۔