انگلینڈ میں ‘لارڈز’ ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستانی فاسٹ بولر محمد علی نے شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کی عدم شمولیت کے سوالات کا رخ بورڈ کی جانب موڑ دیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ‘لیڈز’ میں خراب کارکردگی کی وجہ سرد موسم تھا، جبکہ ‘لارڈز’ میں اہم مواقع پر کیچز ڈراپ ہونے سے ‘انگلینڈ’ کو بڑا اسکور کرنے کا موقع ملا۔
انگلینڈ کے خلاف جاری لارڈز ٹیسٹ کے تیسرے روز کھیل کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر ‘محمد علی’ نے بے باک انداز میں کئی اہم سوالات کے جوابات دیے۔
33 سالہ پیسر، جن کا تعلق ‘سیالکوٹ’ سے ہے، نے نہ صرف ساتھی کھلاڑیوں کا دفاع کیا بلکہ حالیہ دورے میں بولرز کی کارکردگی اور فیلڈنگ کے مسائل پر بھی کھل کر بات کی۔
شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی عدم شمولیت پر دو ٹوک جواب
پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے ‘شاہین آفریدی’ اور ‘نسیم شاہ’ جیسے سینیئر اور اسٹرائیک بولرز کو دورہ ‘انگلینڈ’ کے لیے منتخب نہ کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز اپنایا۔
‘محمد علی’ کا کہنا تھا کہ یہ سوال ان کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ’وہ کیوں ٹیم میں نہیں ہیں، اس سوال کا جواب دینا میرا کام نہیں، یہ بہتر ہوگا کہ آپ اس بات کا جواب بورڈ سے لیجئے۔
لیڈز ٹیسٹ میں ناکامی کی وجہ
اس سے قبل ‘لیڈز’ ٹیسٹ میں ‘پاکستانی’ بولنگ لائن کی ناقص کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے ‘محمد علی’ نے بتایا کہ بحیثیت پیشہ ور کرکٹر وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی بولنگ معیار کے مطابق نہیں تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیم حال ہی میں ‘ویسٹ انڈیز’ کے قدرے گرم موسم میں کھیل کر آئی تھی، جس کے فوراً بعد ‘انگلینڈ’ کے سرد موسم سے ہم آہنگ ہونا مشکل ثابت ہوا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بطور کرکٹر انہیں ہر قسم کے موسم میں بہترین کھیل پیش کرنا چاہیے، جس میں وہ ناکام رہے۔
‘لارڈز’ میں اچھی بولنگ مگر خراب فیلڈنگ نے مایوس کیا
‘لارڈز’ ٹیسٹ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کے بولر کا موقف تھا کہ ٹیم نے دونوں اننگز میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا۔
لیکن بدقسمتی سے اہم اور فیصلہ کن مواقع پر فیلڈرز نے کیچ ڈراپ کر دیے، جس نے ‘انگلینڈ’ کو سنبھلنے اور بورڈ پر ایک بڑا اسکور جڑنے کا آسان راستہ فراہم کر دیا۔
کسی پر ملبہ نہیں ڈالوں گا، کوئی معذرت نہیں
‘محمد علی’ نے ساتھی کھلاڑیوں پر کیچ ڈراپ کرنے کا ملبہ ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے کھیل میں کیچ پکڑے بھی جاتے ہیں اور ڈراپ بھی ہوتے ہیں، اس لیے وہ خراب فیلڈنگ پر کوئی معذرت یا حیلے بہانے نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:شاہین شاہ آفریدی کے گھر رمضان کی رونقیں ،افطار ڈنر میں کھلاڑیوں کا اجتماع
تاہم انہوں نے حسرت بھرے انداز میں کہا کہ اگر وہ اہم کیچز تھام لیے جاتے، تو آج میچ کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی اور شاید ‘پاکستان’ اس وقت ‘انگلینڈ’ سے کہیں آگے ہوتا۔
‘پاکستان’ اور ‘انگلینڈ’ کے درمیان موجودہ ٹیسٹ سیریز قومی ٹیم کے لیے کافی کٹھن ثابت ہو رہی ہے۔ ‘شاہین آفریدی’ اور ‘نسیم شاہ’ کی غیر موجودگی میں نوجوان اور قدرے ناتجربہ کار بولنگ اٹیک کو ‘انگلش’ بلے بازوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سے قبل ٹیم ‘ویسٹ انڈیز’ کے دورے پر تھی جہاں کی کنڈیشنز ‘انگلینڈ’ سے یکسر مختلف تھیں۔
‘لیڈز’ میں بولرز کی ناکامی اور پھر ‘لارڈز’ میں فیلڈنگ کی خامیوں نے ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں پر شدید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ شائقین اور مبصرین کی جانب سے بھی سینیئر بولرز کو ڈراپ کرنے کے کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر مسلسل تنقید کی جا رہی ہے۔