نیپال میں تباہ کن سیلاب سے اموات 600 سے متجاوز، 2400 سے زائد افراد لاپتہ

نیپال میں تباہ کن سیلاب سے اموات 600 سے متجاوز، 2400 سے زائد افراد لاپتہ

نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 675 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2400 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں ، اس دوران ریسکیو آپریشن پانچویں روز بھی جاری ہے لیکن مسلسل بارش امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تباہ کن سیلاب ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے کے باعث آیا تھا جبکہ یڈ کراس کے اندازے کے مطابق نیپال میں سیلاب سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔۔

 حکام کے مطابق کئی خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں پھنسے افراد تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے 18,700 سے زیادہ ریسکیو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

نیپال ٹورزم بورڈ نے اپنی تازہ ترین اطلاع میں بتایا ہے کہ 261 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ 320 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

فلیش فلڈ سے تباہی 

ہمالیائی سرحدی علاقے میں گلیشیئر کا ایک حصہ گرنے کے بعد کیچڑ اور ملبے کا بڑا ریلا دریاؤں میں پھیل گیا، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال نے شدت اختیار کی، پانی کے تیز بہاؤ نے آبادیوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

نیپالی حکام کے مطابق سیلابی ریلے میں بہنے والی بعض لاشیں متاثرہ علاقے سے تقریباً 100 کلومیٹر دور میدانی علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں، حکام کو خدشہ ہے کہ تلاش کا دائرہ بڑھنے کے ساتھ مزید لاشیں بھی مل سکتی ہیں۔

ہزاروں افراد اب بھی لاپتا

سیلاب کے بعد سب سے بڑا مسئلہ لاپتا افراد کی تلاش ہے، برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کیمطابق 2400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، لاپتہ  غیر ملکی شہریوں میں بڑی تعداد بھارت سے آنے والے ہندو یاتریوں کی بتائی جاتی ہے، جو مقدس مقامات کیلاش اور مانسرور کے سفر پر تھے۔

سیلاب کی تباہ کاریوں کا اثر نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے تک بھی پہنچا ہے ،  چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں 16 افراد ہلاک اور 546 لاپتا ہوئے ہیں، نیپالی محکمہ سیاحت کے مطابق نیپال اور تبت کی سرحد پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ لاپتا افراد میں 320 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :نیپال کا تباہ کن سیلاب، ’گلوف‘ کیا ہے اور یہ کیسے آتا ہے؟

یہ صورتحال متاثرہ خاندانوں کے لیے مزید تشویش کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ کئی علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کے باعث تلاش اور شناخت کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

زرد بارش کی پیشگوئی

ریسکیو ٹیمیں پانچویں روز بھی لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مصروف ہیں، لیکن مسلسل بارش امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

نیپال کے محکمہ ہائیڈرولوجی اینڈ میٹرولوجی نے علاقے میں کم از کم پیر تک زرد بارش کی وارننگ جاری کی ہے،  شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسم اور مقامی صورتحال سے متعلق تازہ اطلاعات پر نظر رکھیں۔

زرد وارننگ تین سطحی نظام میں سب سے نچلی سطح کی وارننگ ہے، جو نارنجی اور سرخ وارننگ سے کم شدت کی ہوتی ہے۔ تاہم، موجودہ حالات میں مزید بارش جاری رہنے سے تلاش اور امدادی سرگرمیوں کے لیے مشکلات برقرار رہنے کا امکان ہے۔

سیلاب کے بعد بننے والی ایک جھیل بھی تشویش کا باعث بنی تھی، کیونکہ اس کے لبریز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم اب اس جھیل میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔

دوسری جانب سانحہ نیپال میں گلیشیئر سے برف ٹوٹ کر گرنے کی ویڈیو سامنے آگئی۔ گلیشیئر کا انتہائی بڑا ٹکڑا ہزاروں میٹر نیچے جا کر جھیل میں گرا جس سے برفانی پانی کی وہ لہر پیدا ہوئی جس میں پہاڑی پتھر، درخت، مٹی نے مل کر اسے طوفانی سیلاب میں تبدیل کردیا۔

بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان

سیلاب نے صرف انسانی جانوں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ نیپال کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے،  اسکولوں، اسپتالوں، پن بجلی گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

نیپالی وزیر خارجہ کے مطابق ٹنلز میں پھنسے افراد کو نکالنے، لاشوں کی شناخت کے لیے خصوصی تکنیکی معاونت اور نقل و حمل کے لیے بیرونی تعاون درکار ہے،  ریسکیو مرحلے کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی بحالی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

نیپال میں فلیش فلڈ کے بعد فوری ترجیح لاپتا افراد کی تلاش، متاثرین تک امداد پہنچانا اور خطرناک علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے،فی الحال نیپال اور سرحدی علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں،  آنے والے دنوں میں موسم اور ریسکیو ٹیموں کی متاثرہ علاقوں تک رسائی اس بحران کی اگلی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

عالمی حدت سے ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں

اس تباہ کن سیلاب کا ایک ذریعہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) بھی ہے ، جس کے باعث ہمالیہ کے گلیشیئرز، برفانی میدانوں، برف کے ذخائر اور مستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے پگھلنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق گلیشیئرز کا پتلا ہونا اور پیچھے ہٹنا نہ صرف ان کے ٹوٹنے یا منہدم ہونے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ اس سے برفانی جھیلیں بھی تیزی سے بھر جاتی ہیں، جو بعد میں پھٹ کر تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے پہاڑوں کی زیادہ بلندی والی جگہوں پر اب برف باری کے بجائے بارش ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جو پہاڑی ڈھانچے کو مزید غیر مستحکم بنا سکتی ہے۔

editor

Related Articles