ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن جنگ کو طول دینے کے لیے توانائی کی منڈی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ اور علاقائی کشیدگی کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹ پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اسرائیل سے منسلک عناصر کے دعوے
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل سے منسلک بعض عناصر موجودہ صورتحال کے حوالے سے امید افزا جائزے اور دعوے پیش کر رہے ہیں، تاہم جنگ کے حقیقی اثرات اور اس کے معاشی نتائج مختلف صورت میں سامنے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کا مالی بوجھ بالخصوص عام امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی صارفین پر معاشی بوجھ
عباس عراقچی کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی بے یقینی کے اثرات براہ راست عام صارفین تک پہنچ رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے دعووں کے برعکس اس کے مالی اور معاشی اثرات کا اصل بوجھ امریکی عوام اور صارفین برداشت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں تبدیلی عام شہریوں کی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھنے سے معاشی دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی پالیسی اور میڈیا بیانیے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حقائق کو سامنے لانے اور جنگ کے معاشی اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے،عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے توانائی کی مارکیٹ میں مداخلت کا مقصد جنگ کے دورانیے اور اس کے اثرات کو مزید بڑھانا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتوں اور رسد کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں،علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ پر ممکنہ اثرات، تیل و گیس کی رسد اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے متعلق بے یقینی بھی برقرار ہے۔