نیو یارک، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے دورے پر ہنگامہ،خالصتان حامی سکھ مظاہرین کا مودی سرکار کے خلاف شدید احتجاج

نیو یارک، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے دورے پر ہنگامہ،خالصتان حامی سکھ مظاہرین کا مودی سرکار کے خلاف شدید احتجاج

امریکی شہر نیویارک میں بھارتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورے کے موقع پر خالصتان حامی سکھ مظاہرین نے احتجاج کیا۔

مظاہرین نے نیویارک کے معروف میڈیسن اسکوائر گارڈن کے باہر بھارتی حکومت اور ہندو قوم پرستی کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اقلیتوں سے امتیازی سلوک

مظاہرین نے بھارت میں سکھوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

احتجاج میں شریک افراد نے مطالبہ کیا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور انسانی حقوق کی صورتحال کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جائے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی

خالصتان حامی تنظیم سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گُرپت ونت سنگھ پنوں نے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت پر بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں پر شدید احتجاج کیا ۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا میں بھارت کے خلاف سکھوں کا بڑا احتجاجی مظاہرہ، بھارتی حکومت کا آڑے ہاتھوں لے لیا

گُرپت ونت سنگھ پنوں نے اپنی گفتگو میں بھارت کی تاریخ کے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے 1984 کے گولڈن ٹیمپل آپریشن، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور منی پور میں مسیحیوں کے خلاف تشدد کا ذکر کیا۔

ریاستی اداروں کا استعمال

گُرپت ونت سنگھ پنوں نے بھارتی ریاستی اداروں سے متعلق اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت میں سیکیورٹی اداروں کوسکھوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے،مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

editor

Related Articles