ملک میں نظام اب فیل ہو چکاہے، ہم چاہتے ہیں نئے صوبے بنائیں جائیں،مردان کے شہریوں کامطالبہ

ملک میں نظام اب فیل ہو چکاہے، ہم چاہتے ہیں نئے صوبے بنائیں جائیں،مردان کے شہریوں کامطالبہ

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مردان کے شہریوں نے حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔

مردان کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنائے جانے سے انتظامی امور میں بہتری آئے گی اور حکومت کو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔

عام شہری کو سہولت

شہریوں نے کہا کہ بڑے صوبوں میں آبادی اور رقبہ زیادہ ہونے کے باعث دور دراز علاقوں کے عوام کو سرکاری اداروں تک رسائی اور بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نئے صوبوں کے قیام سے عام شہری کے لیے سرکاری امور تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :اب چہرے نہیں، نظام بدلیں گے ! صدر کسان اتحاد پاکستان خالد محمود کا33 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

عوامی مسائل فوری حل ہوں

مردان کے شہریوں نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے مقامی مسائل کو زیادہ تیزی سے حل کیا جاسکتا ہے، صحت، تعلیم، روزگار، سڑکوں، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل پر مقامی سطح پر فوری توجہ دی جاسکتی ہے۔

ترقی کا عمل تیز ہوگا

شہریوں کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے، جس سے پسماندہ علاقوں میں ترقی کا عمل تیز ہونے کی توقع ہے۔

اختیارات عوام کے قریب لائے جائیں

مردان کے شہریوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور مقامی اداروں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز سرکاری مراکز کا رخ نہ کرنا پڑے۔

فیصلہ عوامی مفاد میں ہو

شہریوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے عوامی ضرورت، انتظامی سہولت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

مردان کے شہریوں نے کہا کہ ملک میں بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں، جبکہ نئے صوبوں کا قیام اس سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

editor

Related Articles