نارووال میں قدیم مندرمسمار کرنے کی خبریں جھوٹ، بارش سے دیوار متاثر ہوئی،پنجاب حکومت کی وضاحت

نارووال میں قدیم مندرمسمار کرنے کی خبریں جھوٹ، بارش سے دیوار متاثر ہوئی،پنجاب حکومت کی وضاحت

ضلع نارووال کے گاؤں سراج میں واقع 100 سال سے زائد قدیم ہندو مندر کے معاملے پر وضاحت سامنے آگئی، جہاں حکومت کا کہنا ہے کہ 21 اگست کو ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث مندر کا حصہ متاثر ہوا، جبکہ مندر کو مسمارکیا گیا ہے نہ ہی اسکی زمین کبھی کسی فرد یا ادارے کو لیز پر نہیں دی گئی۔

مندر کے معاملے پر مختلف رپورٹس سامنے آنے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ مندر کی ایک دیوار بارش کے باعث متاثر ہوئی ہے جسے حکومت پنجاب بحال کرنے کے لیے پر عزم ہے ، مندر کی پرانی عمارت کا ایک حصہ موسلا دھار بارش کے باعث منہدم ہوا ہے۔

مندر کے حوالے سے اقلیتی نمائندوں اور مقامی افراد کی جانب سے اسے جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے الزامات بھی سامنے آئے، تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ پرانی عمارت موسلا دھار بارش کے باعث منہدم ہوئی۔

وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے بھی ہندو مندر کے مقام کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا، حکومتی مؤقف کے مطابق موسلا دھار بارش کے نتیجے میں مندر کے سائن یا نشان کا ایک حصہ منہدم ہوا، جسے بحال کرنے کا حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بھارت میں ہندوتوا بیانیہ مضبوط، ایودھیا رام مندر پر جھنڈا لہرانے کے بعد سیاسی تناؤ میں اضافہ

اس حوالے سے ڈان کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے ،حکام نے اس حساس معاملے میں ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافت میں الزامات کی رپورٹنگ ضرور ہونی چاہیے، تاہم الزام، دعوے اور تصدیق شدہ حقائق کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

جب معاملہ کسی مذہبی عبادت گاہ سے متعلق ہو تو ہر دعوے کی مکمل تصدیق کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم سے متعلق غیرمصدقہ یا متنازع بیانیہ زور پکڑنے کی صورت میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی، پاکستان کے تشخص اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سراج گاؤں میں واقع اس مندر کو 100 سے 125 سال پرانا بتایا جاتا ہے اور اس کے ایک حصے کے بارش سے متاثر ہونے کے بعد حکومت اس کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔

 

editor

Related Articles